hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3913

.

الطحاوي

3913
Al Tahawi
۳۹۱۳ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلٰی قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : حَدَّثَنِیْ عُمَرُ بْنُ قَیْسٍ‘ عَنْ عَطَائٍ ‘ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ " (الرَّاعِیْ یَرْعٰی بِالنَّہَارِ وَیَرْمِیْ بِاللَّیْلِ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ رَحِمَہُ اللّٰہُ إِلٰی أَنَّ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ دَلَالَۃً عَلٰی أَنَّ اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ‘ وَقْتٌ وَاحِدٌ لِلرَّمْیِ فَقَالَ (إِنْ تَرَکَ رَجُلٌ رَمْیَ جَمْرَۃِ الْعَقَبَۃِ فِیْ یَوْمِ النَّحْرِ‘ ثُمَّ رَمَاہَا بَعْدَ ذٰلِکَ فِی اللَّیْلَۃِ الَّتِیْ بَعْدَہٗ‘ فَلاَ شَیْئَ عَلَیْہٖ‘ وَإِنْ لَمْ یَرْمِہَا‘ حَتّٰی أَصْبَحَ مِنْ غَدِہٖ، رَمَاہَا‘ وَعَلَیْہِ دَمٌ‘ لِتَأْخِیْرِہِ إِیَّاہَا إِلَی خُرُوْجِ وَقْتِہَا‘ وَہُوَ طُلُوْعُ الْفَجْرِ مِنْ یَوْمِئِذٍ) .وَخَالَفَہُ فِیْ ذٰلِکَ‘ أَبُوْ یُوْسُفَ‘ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَہُمَا اللّٰہُ فَقَالَا : اِذَا ذَکَرَہَا فِیْ شَیْئٍ مِنْ أَیَّامِ الرَّمْیِ‘ رَمَاہَا وَلَا شَیْئَ عَلَیْہِ غَیْرُ ذٰلِکَ‘ مِنْ دَمٍ وَلَا غَیْرِہِ‘ وَإِنْ لَمْ یَذْکُرْہَا حَتّٰی مَضَتْ أَیَّامُ الرَّمْیِ فَذَکَرَہَا‘ وَلَمْ یَرْمِہَا کَانَ عَلَیْہِ فِیْ تَرْکِہَا دَمٌ .وَاحْتَجَّ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ فِیْ ذٰلِکَ عَلٰی أَبِیْ حَنِیْفَۃَ رَحِمَہُ اللّٰہُ۔
٣٩١٣: عطاء نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا چرواہے دن کو اونٹ چرائیں اور رات کو رمی کریں۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں۔ کہ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں یہ دلالت میسر آرہی ہے کہ دن اور رات یہ رمی کا وقت ہے۔ اور فرمایا کہ اگر کوئی شخص جمرہ عقبہ کی رمی یوم نحر کو ترک کر دے پھر اس نے گیارہ کی رات کو رمی کرلی تو اس پر کچھ بھی لازم نہیں اور اگر اس نے رات کو رمی نہ کی یہاں تک کہ گیارہ کی صبح ہوگئی تو اس پر ایک قربانی لازم ہوگی کیونکہ اس نے خروج وقت تک اس کو مؤخر کردیا اور وہ گیارہ تاریخ کی طلوع فجر ہے۔ امام ابو یوسف و محمد (رح) نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ جب اسے یہ رمی ایام رمی میں سے کسی دن میں یاد آگئی اور اس نے کنکریاں مارلیں تو اس پر کوئی چیز لازم نہ ہوگی بعد میں یاد آئی تو اب کنکریاں نہ مارے اس پر رمی کے ترک کی وجہ سے دم کفارہ لازم ہے۔ انھوں نے امام ابوحنیفہ (رح) کے خلاف اس روایت کو دلیل بنایا ہے۔
جب چرواہوں کو غروب کے بعد اجازت دی گئی تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دوسرے دن کی صبح صادق تک اس پر کوئی چیز نہیں۔ البتہ دوسرے دن کی صبح جانے پر تاخیر کا دم لازم ہوگا۔
جمرہ عقبہ کی رمی کا وقت طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک ہے غروب کے بعد کیا حکم ہے اس میں تین قول ہیں۔
نمبر 1: نحر کے دن غروب آفتاب کے بعد رمی سے ایک دم بھی لازم ہوجائے گا اس کو امام مالک و سفیان رحمہم اللہ نے اختیار کیا۔
نمبر 2: غروبِ آفتاب کے بعد گیارہ کی صبح صادق تک کراہت کے ساتھ رمی درست ہے اگر اس سے بھی مؤخر کیا تو دم لازم ہوگا اور یوم ثالث کے غروب سے پہلے تک یہی حکم ہے بعد میں صرف دم لازم ہوگا اس کو امام ابوحنیفہ ‘ نے اختیار کیا۔
نمبر 3: امام شافعی ‘ احمد ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کے ہاں یوم ثانی کی صبح صادق سے لے کر یوم ثالث کے غروب آفتاب تک رمی میں کراہت تو ہے مگر دم نہیں البتہ یوم ثالث کے غروب آفتاب پر دم لازم ہوگا۔
فریق اوّل و ثانی کا مؤقف اور دلیل : یوم نحر کے غروب آفتاب سے صبح صادق تک امام مالک (رح) کے ہاں دم لازم نہ ہوگا البتہ یوم ثانی کی صبح صادق سے یوم ثالث کے غروب تک بالاتفاق رمی کے ساتھ دم بھی لازم ہوگا۔ دلیل یہ روایت ہے۔
فریق ثالث کا مؤقف اور دلیل :
یوم ثالث تک ایام رمی ہیں اس تک رمی کو مؤخر کرنے سے اس پر کوئی چیز لازم نہ ہوگی البتہ ایام رمی گزرنے سے اس پر دم لازم ہوگا دلیل یہ روایت ہے۔