hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3919

.

الطحاوي

3919
Al Tahawi
۳۹۱۹ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ : حَدَّثَنِی ابْنُ لَہِیْعَۃَ‘ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ الْاِہْلَالِ یَوْمَ عَرَفَۃَ فَقَالَ : کُنَّا نُہِلُّ مَا دُوْنَ عَرَفَۃَ‘ وَنُکَبِّرُ یَوْمَ عَرَفَۃَ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ الْحَاجَّ لَا یُلَبِّیْ بِعَرَفَۃَ‘ وَاخْتَلَفُوْا فِیْ قَطْعِہِ لِلتَّلْبِیَۃِ مَتَیْ یَنْبَغِیْ أَنْ یَّکُوْنَ ؟ فَقَالَ قَوْمٌ : حِیْنَ یَتَوَجَّہُ إِلٰی عَرَفَاتٍ‘ وَقَالَ قَوْمٌ : حِیْنَ یَقِفُ بِعَرَفَاتٍ‘ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذِہِ الْآثَارِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : بَلْ یُلَبِّی الْحَاجُّ حَتّٰی یَرْمِیَ جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ وَقَالُوْا : لَا حُجَّۃَ لَکُمْ فِیْ ھٰذِہِ الْآثَارِ الَّتِی احْتَجَجْتُمْ بِہَا عَلَیْنَا‘ لِأَنَّ الْمَذْکُوْرَ فِیْہَا أَنَّ بَعْضَہُمْ کَانَ یُکَبِّرُ‘ وَبَعْضَہُمْ کَانَ یُہِلُّ لَا یَمْنَعُ أَنْ یَکُوْنُوْا فَعَلُوْا ذٰلِکَ وَلَہُمْ أَنْ یُلَبُّوْا فَإِنَّ الْحَاجَّ - فِیْمَا قَبْلَ یَوْمِ عَرَفَۃَ - لَہُ أَنْ یُکَبِّرَ‘ وَلَہٗ أَنْ یُہِلَّ‘ وَلَہٗ أَنْ یُلَبِّیَ‘ فَلَمْ یَکُنْ تَکْبِیْرُہٗ وَتَہْلِیْلُہٗ‘ یَمْنَعَانِہِ مِنَ التَّلْبِیَۃِ .فَکَذٰلِکَ مَا ذَکَرْتُمُوْہُ مِنْ تَہْلِیْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَتَکْبِیْرِہٖ یَوْمَ عَرَفَۃَ‘ لَا یَمْنَعُ ذٰلِکَ مِنَ التَّلْبِیَۃِ .وَقَدْ جَائَ تْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ آثَارٌ مُتَوَاتِرَۃٌ‘ بِتَلْبِیَتِہٖ بَعْدَ عَرَفَۃَ إِلٰی أَنْ رَمٰی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ۔
٣٩١٩: ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ (رض) سے پوچھا کہ عرفہ کے دن تہلیل کا کیا حکم ہے تو انھوں نے فرمایا ہم عرفات سے ادھر تک تہلیل اور عرفہ کے دن تکبیر کہتے تھے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں بعض علماء کا رجحان یہ ہے کہ حاجی عرفہ میں تلبیہ نہ کہے۔ اس بارے میں اختلاف کیا گیا کہ تلبیہ کب منقطع کیا جائے ؟ نمبر ١ بعض لوگ کہتے ہیں جب عرفات کی طرف روانہ ہو ۔ نمبر ٢ وقوف عرفات کے وقت انھوں نے مندرجہ بالا آثار سے استدلال کیا دوسروں نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا حاجی جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ کہے اور ان آثار کے جواب میں یہ کہا کہ ان آثار میں تمہارے حق میں کوئی دلیل نہیں پائی جاتی۔ اس لیے کہ ان آثار میں تو صرف اس قدر بات ہے کہ بعض لوگ تکبیر کہتے اور بعض لوگ لا الہ الا اللہ پڑھتے تھے اور یہ بات اس سے مانع نہیں کہ انھوں نے یہ بھی کہا ہو اور تلبیہ بھی پڑھا ہو۔ کیونکہ حجاج تکبیر ‘ تہلیل اور تلبیہ نویں ذی الحجہ سے پہلے کہہ سکتا تھا ۔ اس کی تکبیر و تہلیل تلبیہ سے مانع نہ تھے۔ اسی طرح تم نے جو نوویں ذوالحجہ کو جو تکبیر و تہلیل کا ذکر کیا وہ تلبیہ سے مانع نہیں جبکہ نو ذوالحجہ کے بعد کنکریاں مارنے تک تلبیہ کے متعلق جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متواتر روایات مروی ہیں۔ روایات ملاحظہ ہو۔
حاصل روایات : ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حاجی عرفہ میں تلبیہ نہ پڑھے۔ البتہ اس کو ترک کے متعلق بعض نے روانگی عرفات کا وقت اور بعض نے وقوف عرفات بتلایا ہے۔
فریق ثالث کا مؤقف :
رمی جمرہ عقبہ کے وقت تلبیہ منقطع کیا جائے گا۔ اس سے پہلے تلبیہ تکبیر و تہلیل سب درست ہے۔
سابقہ مؤقف کا جواب : ان روایات میں انقطاع کا وقت وقوف عرفات یا روانگی عرفات ہے اس کی کوئی دلیل موجود نہیں تکبیر و تہلیل کا پڑھنا جس کا تذکرہ روایات بالا میں پایا جاتا ہے وہ تلبیہ کے خلاف نہیں۔ اسی طرح جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تلبیہ و تہلیل وہ بھی تلبیہ سے قطعاً مانع نہیں ہے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرفات کے بعد تلبیہ کے ثبوت کی کثرت سے روایات وارد ہیں۔ چند مذکور ذیل ہیں۔