۳۹۲۸ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حُمَیْدٍ الْکُوْفِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْمُبَارَکِ‘ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِیْ ذَہَابٍ‘ عَنْ مُجَاہِدٍ‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَخْبَرَۃَ قَالَ : (لَبَّیْ عَبْدُ اللّٰہِ وَہُوَ مُتَوَجِّہٌ إِلٰی عَرَفَاتٍ .فَقَالَ أُنَاسٌ : مَنْ ھٰذَا الْأَعْرَابِیُّ .فَالْتَفَتَ إِلَیَّ عَبْدُ اللّٰہِ فَقَالَ : أَضَلَّ النَّاسُ أَمْ نَسُوْا ؟ وَاللّٰہِ مَا زَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُلَبِّیْ حَتّٰی رَمَی الْجَمْرَۃَ إِلَّا أَنْ یَخْلِطَ ذٰلِکَ بِتَہْلِیْلٍ أَوْ بِتَکْبِیْرٍ) .
٣٩٢٨: مجاہد نے عبداللہ بن سخبرہ سے روایت کی کہ عبداللہ نے اس وقت تلبیہ کہا جب کہ وہ عرفات کی طرف جا رہے تھے۔
کچھ لوگوں نے کہا یہ بدو کون ہے ؟ میں عبداللہ کی طرف متوجہ ہوا تو انھوں نے کہا کیا لوگ بھول گئے یا گمراہ ہوگئے ؟ اللہ کی قسم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔ البتہ کبھی تہلیل اور تکبیر بھی ملا لیتے تھے۔