hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 393

.

الطحاوي

393
Al Tahawi
۳۹۳ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عُمَرَ الْحَوْضِیُّ ، قَالَ : ثَنَا ہَمَّامٌ ، قَالَ : ثَنَا قَتَادَۃُ ، قَالَ : قَالَ لِیْ سُلَیْمَانُ بْنُ ہِشَامٍ : إِنَّ ھٰذَا لَا یَدَعُنَا ( یَعْنِی الزُّہْرِیَّ ) أَنْ نَأْکُلَ شَیْئًا إِلَّا أَمَرَنَا أَنْ نَتَوَضَّأَ مِنْہٗ .فَقُلْتُ : سَأَلْتُ عَنْہُ سَعِیْدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ فَقَالَ : اِذَا أَکَلْتہ فَہُوَ طَیِّبٌ ، لَیْسَ عَلَیْکَ فِیْہِ وُضُوْئٌ فَإِذَا خَرَجَ فَہُوَ خَبِیْثٌ عَلَیْکَ فِیْہِ الْوُضُوْئُ .فَقَالَ : مَا أَرَاکُمَا إِلَّا قَدْ اخْتَلَفْتُمَا ، فَہَلْ بِالْبَلَدِ مِنْ أَحَدٍ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، أَقْدَمُ رَجُلٍ فِی جَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ .قَالَ مَنْ ہُوَ ؟ قُلْتُ : عَطَائٌ فَأَرْسَلَ ، فَجِیْئَ بِہٖ فَقَالَ : إِنَّ ہَذَیْنِ قَدِ اخْتَلَفَا عَلَیَّ فَمَا تَقُوْلُ ؟ فَقَالَ : حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ ، ثُمَّ ذَکَرَ عَنْ أَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مِثْلَہٗ .
٣٩٣: قتادہ کہتے ہیں مجھے سلیمان بن ہشام نے کہا کہ یہ معنی زہری کوئی چیز کھلائے بغیر نہیں چھوڑتا اور ہمیں پھر اس سے وضو کرنا پڑتا ہے میں نے کہا میں نے تو سعید بن مسیب سے اس کے متعلق سوال کیا تو وہ کہنے لگے جب تم نے پاکیزہ چیز کھائی تو تم پر وضو نہیں اور جب وہ چیز نکلے جو گندی ہو تو اس کی وجہ سے تم پر وضو لازم ہے وہ کہنے لگے تم دونوں کے مسئلہ میں اختلاف ہوگیا ہے کیا اس شہر میں کوئی ایسا آدمی ہے جس سے استفسار کیا جائے ؟ میں نے کہا ہاں ! جزیرہ عرب کا سب سے بڑا عالم۔ اس نے کہا وہ کون ؟ میں نے کہا وہ عطاء ہیں۔ چنانچہ ان کی طرف پیغام بھیج کر ان کو منگوایا گیا تو اس نے کہا ان دو آدمیوں نے میرے مسئلہ کے سلسلہ میں اختلاف کیا ہے تم کیا فتویٰ دیتے ہو ؟ عطاء کہنے لگے ہمیں جابر بن عبداللہ نے بیان کیا پھر انھوں نے ابوبکر صدیق (رض) سے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔
تخریج : مسند احمد ١؍٣٦٤