hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3932

.

الطحاوي

3932
Al Tahawi
۳۹۳۲ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ‘ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ مَعِیْنٍ‘ قَالَ : ثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیْرٍ‘ قَالَ : ثَنَا أَبِیْ‘ قَالَ : سَمِعْتُ یُوْنُسَ‘ عَنِ الزُّہْرِیِّ‘ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ‘ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : (کَانَ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ رِدْفَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَۃَ إِلَی الْمُزْدَلِفَۃِ‘ ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا مِنْ مُزْدَلِفَۃَ إِلَی مِنًی‘ فَکِلَاہُمَا قَالَا لَمْ یَزَلْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُلَبِّیْ حَتّٰی رَمٰی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ) .فَقَدْ جَائَ تْ ھٰذِہِ الْآثَارُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ أَنَّہٗ کَانَ یُلَبِّیْ حَتّٰی رَمٰی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ‘ وَصَحَّ مَجِیْئُہَا‘ وَلَمْ یُخَالِفْہَا‘ عِنْدَنَا‘ مَا قَدَّمْنَاہُ فِیْ أَوَّلِ ھٰذَا الْبَابِ‘ لِمَا قَدْ شَرَحْنَا وَبَیَّنَّا .وَھٰذَا (الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا‘ فَقَدْ کَانَ رَدِیْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ حِیْنَ دَفَعَ مِنْ عَرَفَۃَ‘ وَقَدْ رَأٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَۃَ یُلَبِّی حِیْنَئِذٍ‘ وَبَعْدَ ذٰلِکَ) .وَقَدْ ذَکَرْنَا عَنْ (أُسَامَۃَ أَنَّہٗ قَالَ : کُنْتُ رَدِیْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَۃَ‘ فَلَمْ یَکُنْ یَزِیْدُ التَّہْلِیْلَ وَالتَّکْبِیْرَ فَدَلَّتْ تَلْبِیَتُہُ بِعَرَفَۃَ أَنَّہٗ قَدْ کَانَ لَہٗ أَنْ یُلَبِّیَ أَیْضًا بِعَرَفَۃَ‘ وَأَنَّہٗ إِنَّمَا کَانَ تَکْبِیْرُہُ وَتَہْلِیْلُہٗ بِعَرَفَۃَ‘ کَمَا کَانَ لَہٗ قَبْلَہَا‘ لَا أَنْ یَجْعَلَ مَکَانَ التَّلْبِیَۃِ تَہْلِیْلًا وَتَکْبِیْرًا) .أَلَا تَرَی إِلٰی قَوْلِ عَبْدِ اللّٰہِ فِیْ حَدِیْثِ مُجَاہِدٍ : (لَبَّی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی رَمٰی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ) ، إِلَّا أَنَّہٗ رُبَّمَا کَانَ خَلَطَ ذٰلِکَ بِتَکْبِیْرٍ وَتَہْلِیْلٍ .فَأَخْبَرَ عَبْدُ اللّٰہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ قَدْ کَانَ یَخْلِطُ التَّکْبِیْرَ بِالتَّہْلِیْلِ‘ وَکَانَ التَّہْلِیْلُ وَالتَّکْبِیْرُ‘ لَا یَدُلَّانِ عَلٰی أَنْ لَا تَلْبِیَۃَ فِیْ وَقْتِہَا‘ وَالتَّلْبِیَۃُ فِیْ ذٰلِکَ الْوَقْتِ‘ تَدُلُّ عَلٰی أَنَّ ذٰلِکَ الْوَقْتَ کَانَ وَقْتَ تَلْبِیَتِہٖ۔ فَثَبَتَ بِتَصْحِیْحِ ھٰذِہِ الْآثَارِ أَنَّ وَقْتَ التَّلْبِیَۃِ إِلٰی أَنْ یَرْمِیَ جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ یَوْمَ النَّحْرِ .فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خِلَافُ مَا صَحَّحْتُمْ عَلَیْہِ ھٰذِہِ الْآثَارَ‘ وَذَکَرَ۔
٣٩٣٢: عبیداللہ بن عبداللہ نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے۔ اسامہ بن زید (رض) جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے بیٹھے تھے جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفات سے مزدلفہ تشریف لے جا رہے تھے۔ پھر آپ نے فضل بن عباس (رض) کو مزدلفہ سے منیٰ تک پیچھے بٹھا لیا۔ دونوں نے بتلایا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک آپ تلبیہ پڑھتے رہے اور یہ روایات صحیح و درست ہیں اور وہ روایات جو شروع باب میں آئی ہیں اور ہم نے ان کی وضاحت کی ہے۔ وہ اس کے خلاف نہیں ۔ یہ فضل بن عباس (رض) ہیں جو کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے سوار تھے جب کہ آپ عرفات سے روانہ ہوئے۔ انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عرفات کے اس موقعہ پر اور بعد میں بھی تلبیہ کہتے سنا اور ہم نے حضرت اسامہ (رض) کی روایت نقل کی ہے کہ میں عرفات میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سواری پر پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور آپ اس وقت صرف تکبیر و تہلیل کہہ رہے تھے اور عرفہ کے بعد آپ کا تلبیہ کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ عرفات میں بھی تلبیہ کہہ سکتے تھے اور آپ کا عرفات میں تکبیر و تہلیل اسی طرح تھا جیسا کہ آپ سے پہلے کہتے تھے ایسا نہیں کہ آپ نے تکبیر و تہلیل تلبیہ کی جگہ کہی۔ کیا تم دیکھتے کہ وہ فرماتے ہیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمرہ عقبہ کی کنکریاں مارنے تک تلبیہ کہتے رہے۔ البتہ بعض اوقات درمیان میں تکبیر و تہلیل کہتے تھے۔ تو اس میں حضرت عبداللہ (رض) نے اس بات کی اطلاع دی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی تکبیر کو تہلیل سے ملا دیتے تھے اور یہ اس بات کی دلالت نہیں کہ اس وقت میں تلبیہ نہیں ہے اور تلبیہ کا وجود یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ تلبیہ کا وقت ہے۔ پس ان آثار کی تصحیح سے معلوم ہوگیا کہ یوم نحر کو جمرہ عقبہ کنکریاں مارنے تک تلبیہ کا وقت ہے۔ اگر کوئی معترض کہے کہ اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان روایات کے خلاف روایات بھی وارد ہیں جو ذیل میں درج ہیں۔
تخریج : بخاری فی الحج باب ٢٢‘ ٩٣‘ ٩٩‘ ١٠١‘ مسلم فی الحج ٢٦٦؍٢٦٧‘ ترمذی فی الحج باب ٧٨‘ نسائی فی المناسک باب ٢٠٤؍٢٢٩‘ ابن ماجہ فی المناسک باب ٦٩‘ دارمی فی المناسک باب ٦٠‘ مسند احمد ١؍١١٤‘ ٢١٠؍٢١٤‘ ٢٢٦۔
حاصل روایات : ان آثار سے ثابت ہو رہا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہا سابقہ روایات فصل اول اس کے خلاف نہیں کیونکہ ان میں تہلیل و تکبیر کا تذکرہ ہے۔ اور وہ تلبیہ کے خلاف نہیں جیسا پہلے ذکر کر آئے۔ یہ فضل (رض) جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مزدلفہ سے منیٰ واپسی تک ردیف تھے وہ بھی عرفہ سے بعد تلبیہ کو بیان کر رہے ہیں۔ اور اسامہ (رض) کی روایت عرفات میں تلبیہ کو ثابت کرتی ہے۔ کبھی آپ تلبیہ کبھی تہلیل اور کبھی تکبیر کہتے تھے یہ نہیں کہ تلبیہ کی جگہ تہلیل و تکبیر کہتے تھے۔ بلکہ ابن مسعود (رض) کی روایت میں اور صاف فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تکبیر و تہلیل سے ملا کر اور کبھی الگ تلبیہ رمی جمرہ عقبہ تک کرتے رہے۔ معلوم ہوا کہ یہ تمام وقت تلبیہ تکبیر و تہلیل کا ہے۔
پس ثابت ہوگیا کہ جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہنا چاہیے۔
سرسری اشکال :
بعض صحابہ کرام (رض) کا عمل اس کے خلاف معلوم ہوتا ہے جیسا کہ یہ روایات ذکر کی جا رہی ہیں۔