hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3941

.

الطحاوي

3941
Al Tahawi
۳۹۴۱ : حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عُثْمَانَ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ قَالَ : ثَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ‘ عَنْ أَبِی الْأَسْوَد‘ عَنْ عُرْوَۃَ‘ عَنْ (أُمِّ قَیْسٍ بِنْتِ مُحْصَنٍ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیَّ عَکَاشَۃُ بْنُ مُحْصَنٍ وَآخَرُ فِیْ مِنًیْ مَسَائَ یَوْمِ الْأَضْحَی فَنَزَعَا ثِیَابَہُمَا‘ وَتَرَکَا الطِّیْبَ .فَقُلْتُ : مَالَکُمَا ؟ فَقَالَا : إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا مَنْ لَمْ یُفِضْ إِلَی الْبَیْتِ مِنْ عَشِیَّۃِ ھٰذِہِ‘ فَلْیَدَعْ الثِّیَابَ وَالطِّیْبَ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ إِلٰی ھٰذَا قَوْمٌ فَقَالُوْا : لَا یَحِلُّ اللِّبَاسُ وَالطِّیْبُ لِأَحَدٍ‘ حَتّٰی یَحِلَّ لَہٗ النِّسَائُ ‘ وَذٰلِکَ حِیْنَ یَطُوْفُ طَوَافَ الزِّیَارَۃِ‘ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : اِذَا رَمَی وَحَلَقَ‘ حَلَّ لَہٗ اللِّبَاسُ .وَاخْتَلَفُوْا فِی الطِّیْبِ فَقَالَ بَعْضُہُمْ : حُکْمُہٗ حُکْمُ اللِّبَاسِ‘ فَیَحِلُّ کَمَا یَحِلُّ اللِّبَاسُ‘ وَقَالَ آخَرُوْنَ : حُکْمُہٗ حُکْمُ الْجِمَاعِ‘ فَلاَ یَحِلُّ حَتّٰی یَحِلَّ الْجِمَاعُ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
٣٩٤١: عروہ نے ام قیس بنت محصن (یہ عکاشہ کی حقیقی بہن ہیں) کہتی ہیں کہ میرے ہاں عکاشہ بن محصن آئے اور ان کے ساتھ دوسرا صاحب بھی تھا۔ یہ یوم نحر کو منیٰ میں شام کا وقت تھا (ان دونوں نے سلے کپڑے پہن رکھے تھے) ان کو اتارا ہوا تھا اور خوشبو کو چھوڑ دیا تھا۔ میں نے ان کو کہا تم دونوں کو کیا ہوا دونوں کہنے لگے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں فرمایا ہے کہ جو شام تک طواف زیارت کے لیے مکہ نہیں گیا وہ سلے کپڑے اتار دے اور خوشبو ترک کر دے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ لباس اور خوشبو کسی شخص کے لیے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کہ اس کے لیے عورتیں حلال نہ ہوجائیں اور یہ اس وقت حلال ہے جب وہ طواف زیارت سے فارغ ہوجائے ۔ انھوں نے مندرجہ بالا روایت کو استدلال میں پیش کیا ہے۔ دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ۔ کہ جب وہ کنکریاں مار کر حلق کرے تو اس کو لباس پہننا جائز ہے۔ البتہ خوشبو کے سلسلہ میں اختلاف کیا ہے۔ بعض علماء نے کہا کہ یہ لباس کا حکم رکھتی ہے اور لباس کی طرح اس کا لگانا بھی جائز ہے۔ جبکہ دوسرے علماء نے کہا کہ اس کا حکم جماع کی طرح ہے پس جماع کے حلال ہونے تک خوشبو حلال نہیں ان کی دلیل ذیل کی روایات ہیں۔
فریق ثانی و ثالث کا مؤقف اور دلیل :
رمی و حلق کے بعد اس کو لباس درست ہے البتہ خوشبو میں فریق ثانی اس کو ناجائز قرار دیتا ہے اور فریق ثالث لباس کی طرح قرار دے کر جائز کہتا ہے۔
فریق ثالث کی دلیل یہ روایت ہے۔