۳۹۵۷ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا قَبِیْصَۃُ‘ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ‘ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ‘ وَمُوْسٰی، عَنْ نَافِعٍ‘ عَنِ ابْنِ عُمَرَ‘ أَنَّہٗ کَانَ یَأْخُذُ مِنْ أَظْفَارِہٖ وَشَارِبِہٖ وَلِحْیَتِہٖ، یَعْنِیْ قَبْلَ أَنْ یَزُوْرَ .فَھٰذَا عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَدْ أَبَاحَ لَہُمْ اِذَا رَمَوْا وَحَلَقُوْا‘ کُلَّ شَیْئٍ إِلَّا النِّسَائَ وَالطِّیْبَ‘ وَقَدْ خَالَفَتْہُ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا وَابْنُ الزُّبَیْرِ فِی الطِّیْبِ خَاصَّۃً .فَأَمَّا عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا وَابْنُ عَبَّاسٍ‘ فَقَدْ رَوَیْنَا ذٰلِکَ عَنْہُمَا فِیْمَا تَقَدَّمَ مِنْ ھٰذَا الْبَابِ .وَأَمَّا ابْنُ الزُّبَیْرِ‘
٣٩٥٧: نافع نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ وہ اپنے ناخن کاٹتے اور مونچھوں کو کاٹتے اور داڑھی کے (زائد) بال طواف زیارت سے پہلے کاٹتے۔ یہ حضرت عمر (رض) ہیں جو ان کے لیے رمی جمرہ عقبہ اور حلق کے بعد عورتوں اور خوشبو کے علاوہ ہر چیز کو حلال قرار دے رہے ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ‘ ابن زبیر اور ابن عباس (رض) خوشبو کے سلسلہ میں ان سے اختلاف کیا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ اور ابن عباس (رض) کی روایات گزر چکیں۔ ابن زبیر (رض) کی روایت ذیل میں ہے۔
حضرت عمر (رض) نے رمی و حلق کے بعد ان کے لیے تمام چیزوں کے حلال ہونے کا اعلان کرنے کے لیے صرف عورتوں اور خوشبو کو مستثنیٰ کیا ہے اس سے ثابت ہوا کہ خوشبو بھی طواف زیارت سے پہلے درست نہیں۔
مؤقف فریق ثانی کا جواب : حضرت عائشہ (رض) ‘ ابن عباس (رض) اور ابن الزبیر (رض) نے اس کی مخالفت کی ہے جیسا کہ پہلے روایات فصل ثانی میں گزر چکی ہیں اس روایت کو فعل و قول عمر (رض) پر ترجیح ہوگی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف جماع کو مستثنیٰ فرمایا۔ پس مرفوع روایت بالمقابل اس قول کو چھوڑا جائے گا۔