۳۹۵۹ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ حُذَیْفَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ‘ قَالَ : ثَنَا عَمْرُو بْنُ دِیْنَارٍ‘ عَنْ طَاوٗسٍ‘ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَذَکَرَ مِثْلَ الَّذِیْ رَوَیْنَاہٗ عَنْہُ فِی الْفَصْلِ الَّذِیْ قَبْلَ ھٰذَا : قَالَ : (فَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کُنْتُ أُطَیِّبُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا رَمٰی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ قَبْلَ أَنْ یُفِیْضَ) .فَسُنَّۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ أَحَقُّ أَنْ یُؤْخَذَ بِہَا مِنْ سُنَّۃِ عُمَرَ .وَالنَّظْرُ بَعْدَ ذٰلِکَ فِیْ ھٰذَا‘ یَدُلُّ عَلٰی ذٰلِکَ أَیْضًا لِأَنَّ حُکْمَ الطِّیْبِ بِحُکْمِ اللُّبَابِ أَشْبَہٗ مِنْ حُکْمِہٖ بِحُکْمِ الْجِمَاعِ‘ لَمَا قَدْ فَسَّرْنَا مِمَّا تَقَدَّمَ فِیْ ھٰذَا الْبَابِ .وَھٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ‘ وَأَبِیْ یُوْسُفَ‘ وَمُحَمَّدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ‘ وَقَدْ رُوِیَ ذٰلِکَ أَیْضًا عَنْ جَمَاعَۃٍ مِنَ التَّابِعِیْنَ .
٣٩٥٩: طاؤس نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ عمر (رض) نے فرمایا پھر جو پہلے اوپر روایت گزری اسی طرح انھوں نے فرمایا : تو یہ سن کر حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رمی جمرہ عقبہ کے بعد اور مکہ کی طرف روانگی سے پہلے خوشبو لگاتی تھی۔ تو ابن عمر (رض) کہنے لگے کہ سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ جناب عمر (رض) کے فعل سے زیادہ اتباع کی حقدار ہے۔ اس سلسلہ میں نظر وفکر بھی دلالت کرتے ہیں کیونکہ خوشبو کا حکم لباس کے ساتھ جماع کی نسبت زیادہ مشابہت رکھتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے اسی باب میں پہلے تفسیر کی ہے۔ یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ومحمد رحمہم اللہ کا قول ہے اور یہ قول تابعین کی ایک جماعت سے بھی منقول ہے۔
اور تقاضائے نظر میں بھی خوشبو کا لباس کے ساتھ زیادہ مشابہ ہونا ہم بیان کرچکے ہیں۔
یہی قوم ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔ اور تابعین کی ایک جماعت کا قول بھی یہی ہے۔