۳۹۶۲ : حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ‘ عَنْ أَبِیْ عَوَانَۃَ‘ عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ ‘ عَنِ الْوَلِیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الزَّجَّاجِ‘ عَنْ (الْحَارِثِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِیِّ قَالَ : سَأَلْت عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ‘ عَنْ امْرَأَۃٍ حَاضَتْ قَبْلَ أَنْ تَطُوْفَ قَالَ : تَجْعَلُ آخِرَ عَہْدِہَا الطَّوَافَ‘ قَالَ : ہٰکَذَا حَدَّثَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِیْنَ سَأَلْتُہٗ .فَقَالَ لِیْ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ : رَأَیْتُ تَکْرِیْرَک لِحَدِیْثِ سَأَلْتَنِیْ عَنْ شَیْئٍ سَأَلْتُ عَنْہُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ کَیْمَا أُخَالِفَہٗ) .
٣٩٦٢: حارث بن اوس ثقفی کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب (رض) سے اس عورت کے متعلق سوال کیا جس کو طواف سے پہلے حیض آجائے تو انھوں نے فرمایا اس کو طواف وداع کرنا ہوگا اور کہنے لگے مجھے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سوال کرنے پر اسی طرح جواب مرحمت فرمایا پھر مجھے عمر (رض) فرمانے لگے۔ میں دیکھتا ہوں کہ تو مجھ سے بار بار وہ چیز پوچھتا ہے جس کو میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا ہے تاکہ کہیں میں اس کی مخالفت کروں (مگر یہ ممکن نہیں) ۔
عارضہ حیض کی وجہ سے طواف صدر کا ترک جائز نہیں دم لازم ہوگا اس کو سالم بن عبداللہ نے اختیار کیا ہے۔
نمبر 1: ائمہ اربعہ اور جمہور فقہاء و محدثین نے عارضہ حیض کی وجہ سے طواف وداع کو بلادم ساقط قرار دیا۔