۳۹۶۴ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا أَبُوَ الْوَلِیْدِ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَوَانَۃَ‘ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہِ نَحْوَ حَدِیْثِ ابْنِ مَرْزُوْقٍ فِیْ إِسْنَادِہِ وَمَتْنِہِ‘ غَیْرَ أَنَّہٗ قَالَ : سَأَلْت عُمَرَ‘ عَنِ الْمَرْأَۃِ تَطُوْفُ بِالْبَیْتِ ثُمَّ تَحِیْضُ. قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذَا الْحَدِیْثِ‘ فَقَالُوْا : لَا یَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ یَنْفِرَ حَتّٰی یَطُوْفَ طَوَافَ الصَّدْرِ‘ وَلَمْ یَعْذِرُوْا فِیْ ذٰلِکَ‘ حَائِضًا بِحَیْضِہَا .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : لَہَا أَنْ تَنْفِرَ‘ وَإِنْ لَمْ تَطُفْ بِالْبَیْتِ وَعَذَرُوْہَا بِالْحَیْضِ .ھٰذَا اِذَا کَانَتْ قَدْ طَافَتْ طَوَافَ الزِّیَارَۃِ‘ قَبْلَ ذٰلِکَ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا
٣٩٦٤: ولید نے ابو عوانہ سے پھر اپنی اسناد سے ابن مرزوق کی طرح اپنی سند و متن سے روایت نقل کی صرف فرق یہ ہے کہ ” سالت عمر (رض) عن المرأۃ تطوف بالبیت ثم تحیض “ کے الفاظ ہیں۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں بعض علماء اس روایت کو اختیار کرنے والے ہیں وہ فرماتے ہیں۔ اس وقت تک کسی کو واپس گھر لوٹنے کی اجازت نہیں جب تک طواف صدر نہ کرلے اور انھوں نے حائضہ کو حیض کی وجہ سے معذور قرار نہیں دیا۔ علماء کی دوسری جماعت نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ۔ عورت حائضہ کو کوچ کی اجازت ہے۔ اگرچہ طواف صدر نہ کیا ہو اور اس عورت کو عذر حیض ہے۔ یہ اس صورت میں ہے جب کہ وہ طواف زیارت سے فارغ ہوچکی ہو۔ ان کی دلیل ذیل کی روایات ہیں۔
حاصل روایات : اگر کوئی عورت حائضہ ہونے کی وجہ سے طواف صدر چھوڑ دے تو اس پر دم لازم ہوگا۔