hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3984

.

الطحاوي

3984
Al Tahawi
۳۹۸۴ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ أَحْمَدَ‘ قَالَ ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مَسْرُوْقٍ الثَّوْرِیُّ‘ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِیْ رَبِیْعَۃَ‘ عَنْ زَیْدِ بْنِ عَلِیٍّ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ رَافِعٍ‘ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : (أَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ‘ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ إِنِّیْ أَفَضْتُ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ قَالَ : احْلِقْ‘ وَلَا حَرَجَ .قَالَ : وَجَائَ ہٗ آخَرُ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ إِنِّیْ ذَبَحْت قَبْلَ أَنْ أَرْمِیَ قَالَ ارْمِ وَلَا حَرَجَ) " .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَفِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الطَّوَافِ قَبْلَ الْحَلْقِ فَقَالَ : (احْلِقْ وَلَا حَرَجَ) .فَاحْتُمِلَ أَنْ یَّکُوْنَ ذٰلِکَ اِبَاحَۃً مِنْہُ لِلطَّوَافِ قَبْلَ الْحَلْقِ‘ وَتَوْسِعَۃً مِنْہُ فِیْ ذٰلِکَ‘ فَجَعَلَ لِلْحَاجِّ أَنْ یُقَدِّمَ مَا شَائَ مِنْ ہٰذَیْنِ عَلٰی صَاحِبِہٖ وَفِیْہِ أَیْضًا أَنَّ آخَرَ جَائَ ہُ فَقَالَ : إِنِّیْ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِیَ‘ فَقَالَ : (ارْمِ وَلَا حَرَجَ) .فَذٰلِکَ أَیْضًا یَحْتَمِلُ مَا ذَکَرْنَا فِیْ جَوَابِہٖ فِی السُّؤَالِ الْأَوَّلِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ‘ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ شَیْء ٌ .
٣٩٨٤: عبیداللہ بن ابی رافع نے علی بن ابی طالب (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے طواف زیارت حلق سے پہلے کرلیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حلق کراؤ اور اس میں کچھ گناہ نہیں علی (رض) کہتے ہیں کہ دوسرا آدمی آیا اور کہنے لگا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے رمی جمرہ سے پہلے ذبح کیا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا رمی کرلو اور کوئی حرج نہیں۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس روایت میں یہ ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حلق سے پہلے طواف کے متعلق پوچھا گیا۔ تو فرمایا حلق کرلو اور اس میں کچھ حرج نہیں۔ اس میں اس بات کا احتمال ہے کہ حلق سے پہلے طواف کرنا جائز ہو اور اس سلسلے میں آپ کی طرف سے وسعت دی گئی ہو اور آپ نے حاجی کو اجازت دی ہو کہ ان دو افعال میں سے جس کو چاہے دوسرے پر مقدم کرے اور اس روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ دوسرے نے آکر کہا کہ میں نے رمی سے پہلے جانور ذبح کرلیا تو آپ نے فرمایا رمی کرلو اور کچھ حرج نہیں اور اس میں وہ احتمال بھی ہے جو ہم نے اس کے جواب میں سوال اول میں ذکر کیا اور حضرت ابن عباس (رض) سے بھی کچھ مروی ہے۔
تخریج : بخاری فی الحج باب ١٢٥؍١٣١‘ مسلم فی الحج ٣٢٧؍٣٣١‘ ابو داؤد فی المناسک باب ٨٧‘ ترمذی فی الحج باب ٤٥؍٧٦‘ ابن ماجہ فی المناسک باب ٧٤‘ دارمی فی المناسک باب ٦٥‘ مالک فی الحج ٢٤٢‘ مسند احمد ١‘ ٢١٦؍٢٥٨‘ ٢‘ ١٥٩؍١٩٢‘ ٣‘ ٣٢٦؍٣٨٥۔
رمی جمرہ عقبہ ‘ قربانی ‘ حلق ‘ طواف زیارت میں ترتیب امام شافعی ‘ احمد ‘ صاحبین ‘ جمہور علماء رحمہم اللہ کے ہاں واجب نہیں مسنون ہے۔
نمبر 1: امام ابوحنیفہ اور مالک رحمہم اللہ کے ہاں تینوں میں ترتیب واجب ہے خلاف ورزی سے دم لازم آئے گا۔
فریق اوّل کا مؤقف : جمرہ عقبہ کی رمی ‘ قربانی ‘ حلق ان تینوں میں ترتیب نہ مفرد بالحج کے لیے لازم ہے اور نہ قارن کے لیے امام شافعی ‘ ‘ احمد ‘ صاحبین ‘ جمہور علماء رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں۔
حاصل روایت : امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ روایت بتلا رہی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حلق سے پہلے طواف کے متعلق سوال ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حلق کرا لو اور کوئی حرج نہیں۔
امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس میں احتمال یہ ہے کہ حلق سے پہلے طواف کا مباح ہونا ظاہر فرمایا گیا ہو اور اس میں وسعت دینا مقصود ہو کہ جس کو چاہیں ایک دوسرے سے مقدم کریں۔
اور روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ دوسرا آیا اور کہنے لگا میں نے رمی سے پہلے ذبح کرلیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو فرمایا رمی کرو اور کوئی گناہ نہیں۔
اس میں بھی وہی احتمال ممکن ہے کہ حجاج پر توسع مقصود ہو تاکہ جس کو چاہیں مقدم و مؤخر کریں ابن عباس (رض) کی روایت جو انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کی ہے وہ اس کی تائید کرتی ہے۔