۳۹۸۹ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ‘ ہُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ الْکُوْفِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ إِسْحَاقَ الشَّیْبَانِیُّ‘ عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلَاقَۃَ‘ عَنْ (أُسَامَۃَ بْنِ شَرِیْکٍ قَالَ : حَجَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ فَسُئِلَ عَمَّنْ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ یَذْبَحَ أَوْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ یَحْلِقَ فَقَالَ لَا حَرَجَ .فَلَمَّا أَکْثَرُوْا عَلَیْہِ قَالَ یَا أَیُّہَا النَّاسُ‘ قَدْ رُفِعَ الْحَرَجُ إِلَّا مَنِ اقْتَرَضَ مِنْ أَخِیْہِ شَیْئًا ظُلْمًا‘ فَذٰلِکَ الْحَرَجُ) فَھٰذَا أَیْضًا مِثْلُ مَا قَبْلَہٗ۔وَقَدْ یَحْتَمِلُ أَیْضًا أَنْ یَّکُوْنَ قَوْلُہٗ (لَا حَرَجَ) ہُوَ عَلَی الْاِثْمِ‘ أَیْ لَا حَرَجَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا فَعَلْتُمُوْہُ مِنْ ھٰذَا‘ لِأَنَّکُمْ فَعَلْتُمُوْہُ عَلَی الْجَہْلِ مِنْکُمْ بِہٖ، لَا عَلَی التَّعَمُّدِ‘ بِخِلَافِ السُّنَّۃِ‘ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْ ذٰلِکَ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ ذٰلِکَ مُبَیَّنًا وَمَشْرُوْحًا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .
٣٩٨٩: زیاد بن علاقہ نے اسامہ بن شریک (رض) سے نقل کیا کہ ہم نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حج کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا گیا ذبح سے پہلے حلق یا حلق سے پہلے ذبح کا کیا حکم ہے فرمایا کچھ مضائقہ نہیں۔ جب لوگوں نے سوالات کی کثرت کردی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اے لوگو ! تنگی اٹھالی گئی۔ البتہ جو شخص اپنے بھائی سے زبردستی قرض لے اس میں حرج ہے۔ یہ روایت بھی ماقبل کی طرح ہے۔ ہوسکتا ہے کہ لا حرج کا معنیٰ گناہ نہ ہو نامراد ہو یعنی جو تم نے کیا اس پر کچھ گناہ نہیں ۔ کیونکہ تم نے ناواقفی میں کیا ‘ جان بوجھ کر خلاف سنت نہیں کیا پس اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں اس سلسلہ میں واضح اور کھلی روایات بھی مروی ہیں۔
سابقہ روایت کا جواب :
جہاں ان روایات میں وہ احتمال ہے جو فریق اوّل نے لیا وہاں دوسرا احتمال بھی ہے کہ حرج گناہ کے معنی میں ہو۔ اس کا تم پر گناہ نہیں کیونکہ تم نے ناواقفی سے کیا جان بوجھ کر نہیں کیا گناہ جان بوجھ کر کرنے والے پر ہے اور ناواقفیت سے کرنے میں نفی اثم کے ساتھ نفی جرمانہ لازم نہیں۔