۳۹۹۱ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ‘ أَنَّ مَالِکًا وَیُوْنُسَ حَدَّثَاہُ‘ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ‘ عَنْ عِیْسَی بْنِ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو‘ أَنَّہٗ قَالَ : (وَقَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ لِلنَّاسِ یَسْأَلُوْنَہٗ. فَجَائَ ہٗ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ‘ لَمْ أُشْعِرْ فَحَلَقْت قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ‘ فَقَالَ اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ .فَجَائَ ہٗ آخَرُ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ‘ لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْت قَبْلَ أَنْ أَرْمِیَ‘ قَالَ ارْمِ وَلَا حَرَجَ قَالَ فَمَا سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَئِذٍ عَنْ شَیْئٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ‘ إِلَّا قَالَ افْعَلْ وَلَا حَرَجَ) .
٣٩٩١: عیسیٰ بن طلحہ بن عبیداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہنے لگے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجۃ الوداع میں لوگوں کے لیے رکے تاکہ لوگ پوچھ لیں تو ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے پتہ بھی نہ چلا اور میں نے ذبح سے پہلے حلق کروا لیا آپ نے فرمایا ذبح کرو اور کچھ گناہ نہیں۔ ایک اور آدمی آیا اور کہنے لگا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے شعور بھی نہیں ہوا کہ میں نے رمی سے پہلے نحر کرلیا ہے آپ نے فرمایا۔ رمی کرلو اور کچھ حرج نہیں اس دن کسی بھی چیز کی تقدیم و تاخیر سے متعلق جو سوال کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کر ڈالو اور کوئی حرج نہیں۔