hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3998

.

الطحاوي

3998
Al Tahawi
۳۹۹۸ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ‘ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ‘ أَخْبَرَہٗ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِی (عَبْدُ الرَّحْمٰنِ ابْنُ أَبِیْ بَکْرٍ‘ قَالَ : أَمَرَنِی النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ أُرْدِفَ عَائِشَۃَ إِلَی التَّنْعِیْمِ فَأَعْمَرَہَا) .
٣٩٩٨: عمرو بن اوس کہتے ہیں کہ عبدالرحمن بن ابی بکر (رض) نے بتلایا کہ مجھے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں عائشہ (رض) کو پیچھے بٹھا کر تنعیم کی طرف لے جاؤں اور ان کو وہاں سے عمرہ کراؤں۔
مکی کو عمرہ کا احرام باندھنا ہو تو بالاتفاق اس کا حل میں جانا لازم ہے۔ البتہ مقام میں اختلاف ہے۔
نمبر 1: عمرو بن دینار اور بعض فقہاء مکی کے لیے تنعیم سے احرام کو لازم قرار دیتے ہیں کسی اور جگہ سے ممنوع ہے۔
نمبر 2: ائمہ اربعہ اور جمہور فقہاء اور محدثین حل کے کسی بھی مقام سے احرام کو جائز قرار دیتے ہیں اس میں کسی قسم کی کراہت بھی نہیں۔
فریق اوّل کا مؤقف اور دلیل : مکی کو احرام عمرہ کے لیے صرف تنعیم سے احرام باندھنا ضروری ہے اور کسی مقام سے مکروہ ہوگا جیسا کہ آفاقی کو بلا احرام میقات سے تجاوز درست نہیں ہے۔