۴۰۰۰ : فَإِذَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ قَدْ حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَامِرٍ‘ صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ‘ عَنْ أَبِیْ مُلَیْکَۃَ‘ عَنْ (عَائِشَۃَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِسَرِفٍ‘ وَأَنَا أَبْکِیْ فَقَالَ مَا ذَاکَ ؟ قُلْتُ : حِضْت قَالَ فَلاَ تَبْکِیْ، اِصْنَعِیْ مَا یَصْنَعُ الْحَاجُّ .فَقَدِمْنَا مَکَّۃَ‘ ثُمَّ أَتَیْنَا مِنًی ثُمَّ غَدَوْنَا إِلٰی عَرَفَۃَ‘ ثُمَّ رَمَیْنَا الْجَمْرَۃَ تِلْکَ الْأَیَّامَ‘ فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ النَّفْرِ ارْتَحَلَ فَنَزَلَ الْحَصْبَۃَ .قَالَتْ : وَاللّٰہِ مَا نَزَلَہَا إِلَّا مَنْ أَجْلَی‘ فَأَمَرَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ أَبِیْ بَکْرٍ‘ فَقَالَ احْمِلْ أُخْتَک فَأَخْرِجْہَا مِنَ الْحَرَمِ .قَالَتْ‘ وَاللّٰہِ مَا ذَکَرَ الْجِعْرَانَۃَ‘ وَلَا التَّنْعِیْمَ فَلْتُہْلِلْ بِعُمْرَۃٍ فَکَانَ أَدْنَانَا مِنَ الْحَرَمِ‘ التَّنْعِیْمَ‘ فَأَہْلَلْتُ بِعُمْرَۃٍ‘ فَطُفْنَا بِالْبَیْتِ‘ وَسَعَیْنَا بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ‘ ثُمَّ أَتَیْنَاہُ‘ فَارْتَحَلَ .فَأَخْبَرْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَقْصِدْ لَمَّا أَرَادَ أَنْ یُعَمِّرَہَا إِلَّا إِلَی الْحِلِّ‘ لَا إِلٰی مَوْضِعٍ مِنْہُ بِعَیْنِہٖ خَاصًّا)، وَأَنَّہٗ إِنَّمَا قَصَدَ بِہَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ التَّنْعِیْمَ‘ لِأَنَّہٗ کَانَ أَقْرَبَ الْمَحَلِّ إِلَیْہِمْ‘ لَا لِمَعْنًی فِیْہِ یَبِیْنُ بِہٖ مِنْ سَائِرِ الْحِلِّ غَیْرُہٗ۔ فَثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ وَقْتَ أَہْلِ مَکَّۃَ لِعُمْرَتِہِمْ‘ ہُوَ الْحِلُّ‘ وَأَنْ التَّنْعِیْمَ فِیْ ذٰلِکَ وَغَیْرَہٗ سَوَاء ٌ‘ وَھٰذَا کُلُّہٗ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَأَبِیْ یُوْسُفَ‘ وَمُحَمَّدٍ‘ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی۔
٤٠٠٠: ابو ملیکہ نے عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ میرے ہاں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے جبکہ مقام سرف میں ‘ میں رو رہی تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہیں کیا ہوا ؟ میں نے کہا حیض آگیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مت روؤ۔ تم وہ تمام اعمال کرو جو حاجی کرتا ہے چنانچہ ہم مکہ میں پہنچے پھر منیٰ میں آئے۔ پھر صبح عرفات کی طرف روانہ ہوئے پھر ہم نے جمرہ کی ان ایام میں رمی کی جب روانگی کا دن آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وادی محصب میں نزول فرمایا عائشہ (رض) کہتی ہیں اس مقام پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری وجہ سے اترے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبدالرحمن بن ابی بکر (رض) کو حکم دیا اپنی بہن کو سواری پر حرم سے باہر لے جاؤ۔ اللہ کی قسم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جعرانہ کا ذکر نہیں فرمایا اور نہ تنعیم کا۔ اور یہ عمرہ کا احرام باندھ لے۔ مقام تنعیم حرم کے سب سے قریب تھا پس میں نے عمرہ کا احرام باندھا اور بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کی سعی کی پھر ہم آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوچ فرمایا۔ تو حضرت صدیقہ (رض) نے بتلایا کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب ان کو عمرہ کرانے کا ارادہ فرمایا تو فقط حل کا ارادہ فرمایا کسی مقام معین کا قصد نہیں فرمایا ۔ حضرت عبد الرحمن (رض) نے تنعیم کا قصد کیا کہ وہ حل میں سب سے قریب ترین جگہ ہے۔ اس بناء پر نہیں کہ وہ کسی بناء پر دوسرے مقامات سے ممتاز ہے۔ پس اس سے ثابت ہوگیا کہ مکی کے لیے عمرہ کی میقات حل ہے اور اس سلسلہ میں تنعیم اور دیگر مقامات میں کچھ فرق نہیں اور یہ تمام امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ومحمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔
تخریج : بخاری فی الحیض باب ١‘ ٧‘ والحج باب ٣٣‘ والعمرہ باب ٩‘ ابو داؤد فی المناسک باب ٢٣‘ نسائی فی الطہارۃ باب ١٨٢‘ والحیض باب ١‘ والحج باب ٥١‘ ابن ماجہ فی المناسک باب ٣٦‘ مسند احمد ٦‘ ٢١٩؍٢٤٥‘ ٢٧٣۔
حاصل روایت : اس روایت میں عائشہ (رض) نے بتلایا ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرہ کے لیے کسی معینہ جگہ کا تذکرہ نہیں فرمایا بس حل کا ارادہ فرمایا عبدالرحمن مجھے تنعیم لائے کیونکہ یہ جگہ حل میں حرم سے سب سے زیادہ قریب ہے یہ مطلب نہیں کہ عمرے کے لیے تنعیم کی خصوصیت ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ اہل مکہ کا میقات احرام حل ہے۔ اس میں تنعیم یا دیگر مقامات حل برابر ہیں۔
یہی ہمارے ائمہ ثلاثہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا مؤقف ہے۔