۴۰۳: حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا الْمَسْعُوْدِیُّ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ أَبِیْ بُرْدَۃَ ، عَنْ أَبِیْہِ قَالَ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ لِأَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ " مَا تَقُوْلُ فِی الْوُضُوْئِ مِمَّا غَیَّرَتِ النَّارُ " ؟ .قَالَ : تَوَضَّأْ مِنْہُ، قَالَ : فَمَا تَقُوْلُ فِی الدُّہْنِ وَالْمَائِ الْمُسَخَّنِ ، یُتَوَضَّأُ مِنْہُ ؟ .فَقَالَ : أَنْتَ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ ، وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ دَوْسٍ .قَالَ : یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ ، لَعَلَّک تَلْتَجِیُٔ إِلَی ھٰذِہِ الْآیَۃِ ( بَلْ ہُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ).
٤٠٣: سعید بن ابی بردہ نے اپنے والد ابو بردہ سے نقل کیا کہ حضرت ابن عمر (رض) نے حضرت حضرت ابوہریرہ (رض) سے کہا آگ سے پکی چیز (کھا لینے پر وضو) کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں ؟ وہ کہنے لگے تم اس سے وضو کرو۔ ابن عمر (رض) کہنے لگے گرم تیل اور گرم پانی کے متعلق کیا کہتے ہو کیا ان سے وضو کیا جائے گا ؟ تو حضرت ابوہریرہ (رض) کہنے لگے : انت رجل من قریش وانا رجل من دوس آپ بڑی عقل والے ہم کم سمجھ۔ اس پر ابن عمر (رض) کہنے لگے شاید تم اس آیت کا سہارا لے رہے ہو۔ بل ھم قوم خصمون (الزخرف)