۴۰۴۱ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْہَالِ‘ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلْمَۃَ‘ قَالَ : أَنَا حَجَّاجٌ‘ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ‘ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ أَنَّ رَجُلًا أَتٰی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَوْمَ النَّحْرِ‘ فَقَالَ : یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ‘ إِنِّیْ تَمَتَّعْتُ، وَلَمْ أُہْدِ‘ وَلَمْ أَصُمْ فِی الْعَشْرِ .فَقَالَ : " سَلْ فِیْ قَوْمِکَ" ثُمَّ قَالَ : یَا " مُعَیْقِیْبُ‘ أَعْطِہٖ شَاۃً " .أَفَلاَ تَرٰی أَنَّ عُمَرَ لَمْ یَقُلْ لَہٗ : فَھٰذِہِ أَیَّامُ التَّشْرِیْقِ‘ فَصُمْہَا .فَدَلَّ تَرْکُہُ ذٰلِکَ وَأَمَرُہٗ إِیَّاہُ بِالْہَدْیِ أَنْ أَیَّامَ الْحَجِّ عِنْدَہُ‘ الَّتِیْ أَمَرَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ التَّمَتُّعَ بِالصَّوْمِ فِیْہَا‘ ہِیَ قَبْلَ یَوْمِ النَّحْرِ‘ وَأَنَّ یَوْمَ النَّحْرِ‘ وَمَا بَعْدَہٗ مِنْ أَیَّامِ التَّشْرِیْقِ‘ لَیْسَ مِنْہَا .
٤٠٤١: عمرو بن شعیب نے سعید بن مسیب سے نقل کیا ہے کہ ایک آدمی جناب عمر (رض) کی خدمت میں نحر کے دن آیا اور کہنے لگا اے امیرالمؤمنین میں نے حج تمتع کیا ہے اور ہدی نہیں دی اور نہ ہی ایام عشر میں روزے رکھے ہیں پھر فرمایا اپنی قوم سے مانگو ! پھر فرمایا اے معیقیب ! اس کو ایک بکری دے دو ۔ کیا تم اس بات کو نہیں پاتے کہ حضرت عمر (رض) نے اس کو یہ نہیں فرمایا کہ یہ ایام تشرایق ہیں تو ان کا روزہ رکھ لے۔ اس بات کا ترک اور اسے ھدی کا حکم اس بات پر دلالت ہے کہ ان کے ہاں وہ ایام حج جن میں متمتع کو روزہ کی اجازت ہے وہ ایام نحر سے پہلے پہلے ہیں اور یوم نحر اور اس کے بعد والے ایام تشریق اس حکم میں نہیں ہیں۔
حاصل روایت : یہاں عمر (رض) نے اس کو یہ نہیں فرمایا کہ یہ ایام تشریق ہیں ان کے روزے رکھ لو بلکہ دم کو لازم قرار دے کر خود اپنی طرف سے اس کو بکری عنایت کی۔ اس سے ثابت ہوا کہ ہدی نہ دینے پر متمتع کے لیے دم متعین ہوجاتا ہے ہدی کے بدلے روزے کی اجازت کا تعلق ایام نحر سے پہلے تک ہے۔ ایام تشریق یا اس کے بعد اس کی اجازت نہیں۔