hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4044

.

الطحاوي

4044
Al Tahawi
۴۰۴۴ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ ثَنَا یَحْیَی بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ سَلَّامٍ‘ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِیْ کَثِیْرٍ‘ عَنْ عِکْرَمَۃَ‘ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَافِعٍ‘ مَوْلٰی أُمِّ سَلْمَۃَ‘ أَنَّہٗ قَالَ : أَنَا سَأَلْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ عَمْرٍو‘ عَمَّنْ حُبِسَ وَہُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ فَذَکَرَ مِثْلَہٗ .فَحَدَّثْتُ بِذٰلِکَ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ‘ فَقَالَا : صَدَقَ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ الْمُحْرِمَ بِالْحَجِّ‘ أَوْ بِالْعُمْرَۃِ اِذَا کُسِرَ أَوْ عَرِجَ‘ فَقَدْ حَلَّ حِیْنَئِذٍ فَعَلَیْہِ قَضَائُ مَا حَلَّ مِنْہُ‘ إِنْ کَانَتْ حَجَّۃً فَحَجَّۃٌ‘ وَإِنْ کَانَتْ عُمْرَۃً فَعُمْرَۃٌ‘ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ‘ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ. وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : لَا یَحِلُّ حَتّٰی یَنْحَرَ عَنْہُ الْہَدْیَ‘ فَإِذَا نَحَرَ عَنْہُ الْہَدْیَ حَلَّ. وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ‘
٤٠٤٤: عکرمہ نے عبداللہ بن رافع مولیٰ امّ سلمہ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حجاج بن عمرو سے اس آدمی کے متعلق پوچھا جس کو احرام کی حالت میں قید کردیا جائے تو انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت نقل کردی میں نے ابن عباس (رض) اور ابوہریرہ (رض) کو یہ بات بیان کی تو انھوں نے اس کی تصدیق کی۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں۔ بعض علماء اس بات کو اختیار کرنے والے ہیں کہ محرم حج وعمرہ لنگڑا ہوجائے یا اس کا پاؤں ٹوٹ جائے تو وہ اسی وقت احرام سے نکل جاتا ہے اور اس پر اس کی قضاء ہے جس سے وہ نکلا۔ اگر حج ہے تو حج اور اگر عمرہ ہے تو عمرہ لازم ہوگا اور اس روایت کو انھوں نے استدلال میں پیش کیا ۔ دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا وہ اس وقت احرام سے نہ نکلے گا جب تک اس کی طرف سے ھدی ذبح نہ کی جائے ۔ جب ھدی کا جانور نحر کا کردیا گیا تو وہ حلال ہوجائے گا۔ اور انھوں نے ان روایات سے استدلال کیا ہے۔
حاصل روایت : ان روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ محرم بالحج یا بالعمرہ جب لنگڑا ہوجائے یا اس کی ہڈی ٹوٹ جائے اس وقت اس پر قضا لازم ہے اور وہ اس احرام سے حلال ہوجاتا ہے اور حج وعمرہ جو بھی ہو اس کی قضا لازم ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف اور دلائل : محصر کو بلادم حلال ہونا جائز نہیں۔ دلائل یہ روایات ہیں۔