hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 405

.

الطحاوي

405
Al Tahawi
۴۰۵: حَدَّثَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِیْ غَالِبٍ ، عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ ، أَنَّہٗ أَکَلَ خُبْزًا وَلَحْمًا ، فَصَلّٰی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ ، وَقَالَ : الْوُضُوْئُ مِمَّا یَخْرُجُ ، وَلَیْسَ مِمَّا یَدْخُلُ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَہَؤُلَائِ الْأَجِلَّۃُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، لَا یَرَوْنَ فِیْ أَکْلِ مَا غَیَّرَتِ النَّارُ وُضُوْئً ا .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ آخَرِیْنَ مِنْہُمْ مِثْلُ ذٰلِکَ ، مِمَّنْ قَدْ رُوِیَ عَنْہُ ( عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ أَمَرَ بِالْوُضُوْئِ مِمَّا غَیَّرَتَ النَّارُ).فَمِنْ ذٰلِکَ .
٤٠٥: حماد کہتے ہیں کہ ابو غالب نے ابو امامہ (رض) کے متعلق نقل کیا کہ انھوں نے روٹی اور گوشت کھایا پھر نماز پڑحی اور وضو نہ کیا اور فرمانے لگے نکلنے والی چیز (بول ‘ براز ‘ خون ‘ سے وضو ہے پیٹ میں کھائی جانے والی چیز سے وضو نہیں۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جلیل القدر اصحاب ہیں جن کے ہاں آگ سے پکی ہوئی چیز کھا لینے کے بعد وضو نہیں ہے اور دوسرے صحابہ (رض) سے جو انہی کے مثل ہیں انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آگ سے پکی ہوئی چیز کھا لینے پر وضو کا حکم دیا۔
یہ حضرت ابوطلحہ اور حضرت ابو ایوب ہیں ‘ جنہوں نے آگ سے پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا اور ہم نے ان دو حضرات سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد نقل کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے متعلق وضو کا حکم دیا اور ہمارے نزدیک یہ تضاد (عمل) نہیں ہوسکتا۔ سوائے اس صورت کہ جو انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے روایت کیا۔ اس کا منسوخ ہونا ثابت ہوچکا ‘ روایات کے لحاظ سے اس باب کی یہی صورت ہے۔ غور و فکر کے لحاظ سے اب ملاحظہ فرمائیں کہ ہم بہت ساری چیزیں ایسی دیکھتے ہیں کہ جن کے بارے میں اختلاف ہے کہ آیا ان کے کھانے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں جبکہ وہ آگ سے پکی ہوں ؟ اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ آگ پر پکانے سے پہلے ان کے کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا تھا۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم اس بات پر غور کریں کہ کیا آگ کا کوئی ایسا حکم ہے کہ جب یہ چیزوں تک پہنچ جائے تو وہ حکم اس چیز کی طرف منتقل ہوجاتا ہے چنانچہ ہم نے خالص پانی کو دیکھا کہ وہ پاک ہے اور اس سے فرض ادا کیے جاتے ہیں ‘ پھر ہم نے دیکھا کہ جب اس کو گرم کرلیا جائے اور یہ ان چیزوں میں شامل ہوجائے جو آگ سے پکتی ہیں تو طہارت میں اس کا حکم وہی ہے جو آگ پر پکنے سے پہلے ہو اور آگ نے اس میں کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی کہ جس سے اس کا حکم بدل کر ابتداء والے حکم سے مختلف ہوجائے۔ تو نظر کا تقاضا یہ ہے کہ وہ پاکیزہ کھانا جس کے کھانے سے آگ پر پکنے سے پہلے حدث لازم نہیں آتا تو جب اسے آگ نے چھو لیا تو آگ اس کو اس کی اپنی حالت سے نہ بدلے گی اور نہ اس کا حکم اور ہوگا بلکہ آگ کے چھونے کے بعد اس کا حکم وہی رہے گا۔ قیاس و نظر یہی چاہتے ہیں جو ہم نے عرض کردیا۔ ہمارے امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف اور محمد بن حسن (رح) کا یہی مسلک ہے۔ بعض لوگوں نے بکری اور اونٹ کے گوشت میں فرق کیا اور اونٹ کا گوشت کھا لینے سے وضو کو لازم کیا اور بکری کے گوشت سے لازم نہیں کیا۔
حاصل روایات : ان اکیس روایات و آثار سے یہ بات ظاہر ہوگئی کہ اجلہ صحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگ سے پکی چیز استعمال کرلینے سے وضو لازم قرار نہ دیتے تھے ان صحابہ میں ابوبکر و عمرو عثمان ابن عباس اور ابن عمر ابو امامہ (رض) جیسے جلیل القدر حضرات شامل ہیں۔
شروع باب میں جن حضرات صحابہ کرام کی روایات اس کے خلاف نقل کی گئی تھیں یہاں ان کے فتاویٰ پیش کئے جا رہے ہیں جو روایات بالا کی تائید کرتے ہیں یہ ان روایات کے نسخ کی دلیل ہے۔