۴۰۵۶ : وَذٰلِکَ أَنَّ رَبِیْعًا الْمُؤَذِّنَ حَدَّثَنَا‘ قَالَ : ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوْسٰی، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا بْنُ أَبِیْ زَائِدَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا‘ أَبُوْ إِسْحَاقَ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أَبِیْ نَجِیْحٍ‘ عَنْ مُجَاہِدٍ‘ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ ( : حَلَقَ رِجَالٌ یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ‘ وَقَصَّرَ آخَرُوْنَ .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَرْحَمُ اللّٰہُ الْمُحَلِّقِیْنَ قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَالْمُقَصِّرِیْنَ ؟ قَالَ : یَرْحَمُ اللّٰہُ الْمُحَلِّقِیْنَ قَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ‘ وَالْمُقَصِّرِیْنَ ؟ قَالَ : یَرْحَمُ اللّٰہ الْمُحَلِّقِیْنَ قَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ‘ وَالْمُقَصِّرِیْنَ ؟ قَالَ : وَالْمُقَصِّرِیْنَ .قَالُوْا : فَمَا بَالُ الْمُحَلِّقِیْنَ ظَاہَرْتُ لَہُمْ بِالتَّرَحُّمِ ؟ قَالَ : إِنَّہُمْ لَمْ یَشُکُّوْا) .
٤٠٥٦: مجاہد نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ بعض لوگوں نے حدیبیہ کے دن حلق کیا اور بعض نے قصر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ محلقین پر رحمت فرمائے انھوں نے عرض کی یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! والمقصرین ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوبارہ فرمایا اللہ تعالیٰ محلقین پر رحمت فرمائے انھوں پھر کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) والمقصرین ؟ آپ نے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ محلقین پر رحمت فرمائے انھوں نے پھر کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) والمقصرین ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اور مقصرین پر رحمت فرمائے۔
انھوں نے سوال کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے محلقین کے لیے کھل کر رحمت کی دعا فرمائی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انھوں نے حرف شکایت زبان سے نہیں نکالا۔
تخریج : بخاری فی الحج باب ١٢٧‘ مسلم فی الحج ٣١٦؍٣١٧‘ ٣٢٠؍٣٢١‘ ابو داؤد فی المناسک باب ٧٨‘ ترمذی فی الحج باب ٤٧‘ ابن ماجہ فی المناسک باب ٧١‘ دارمی فی المناسک باب ٦٤‘ مالک فی الحج ١٨٤‘ مسند احمد ١‘ ٢١٦؍٣٥٣‘ ٢‘ ١٦؍٣٤‘ ٣‘ ٢٠؍٨٩‘ ٤‘ ٧٠؍١٦٥‘ ٥‘ ٣٨١‘ ٦‘ ٣٩٣؍٩٠٢۔