۴۰۶۲ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ‘ قَالَ ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الْمَاجِشُوْنِ‘ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ بْنِ عُقْبَۃَ‘ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ الصَّبِیَّ اِذَا حَجّ قَبْلَ بُلُوْغِہِ‘ أَجُزْأَہُ ذٰلِکَ مِنْ حَجَّۃِ الْاِسْلَامِ‘ وَلَمْ یَکُنْ عَلَیْہِ أَنْ یَحُجَّ بَعْدَ ذٰلِکَ بَعْدَ بُلُوْغِہِ‘ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : لَا یُجْزِیْہِ مِنْ حَجَّۃِ الْاِسْلَامِ‘ وَعَلَیْہِ بَعْدَ بُلُوْغِہٖ حَجَّۃٌ أُخْرٰی .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ عِنْدَنَا‘ عَلٰی أَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی‘ أَنَّ ھٰذَا الْحَدِیْثَ إِنَّمَا فِیْہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ أَنَّ لِلصَّبِیِّ حَجًّا‘ وَھٰذَا مِمَّا قَدْ أَجْمَعَ النَّاسُ جَمِیْعًا عَلَیْہٖ‘ وَلَمْ یَخْتَلِفُوْا أَنَّ لِلصَّبِیِّ حَجًّا‘ کَمَا أَنَّ لَہٗ صَلَاۃً‘ وَلَیْسَتْ تِلْکَ الصَّلَاۃُ بِفَرِیْضَۃٍ عَلَیْہِ .فَکَذٰلِکَ أَیْضًا قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَّکُوْنَ لَہٗ حَجٌّ‘ وَلَیْسَ ذٰلِکَ الْحَجُّ بِفَرِیْضَۃٍ عَلَیْہٖ‘ وَإِنَّمَا ھٰذَا الْحَدِیْثُ حُجَّۃٌ عَلٰی مَنْ زَعَمَ أَنَّہٗ لَا حَجَّ لِلصَّبِیِّ .فَأَمَّا مَنْ یَقُوْلُ : إِنَّ لَہٗ حَجًّا‘ وَإِنَّہُ غَیْرُ فَرِیْضَۃٍ‘ فَلَمْ یُخَالِفْ شَیْئًا مِنْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ‘ وَإِنَّمَا خَالَفَ تَأْوِیْلَ مُخَالَفَۃٍ خَاصَّۃٍ .وَھٰذَا ابْنُ عَبَّاسِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ہُوَ الَّذِیْ رَوٰی ھٰذَا الْحَدِیْثَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَدْ صَرَفَ ہُوَ‘ حَجَّ الصَّبِیِّ إِلٰی غَیْرِ الْفَرِیْضَۃِ‘ وَأَنَّہٗ لَا یَجْزِیْہِ بَعْدَ بُلُوْغِہٖ مِنْ حَجَّۃِ الْاِسْلَامِ .
٤٠٦٢ : عبدالعزیز بن عبداللہ الماجشون نے ابراہیم بن عقبہ سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے۔
حاصل روایات : ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب اس بچے کا اپنا حج ہے تو بلوغ کے بعد اس کو دوبارہ حج لازم نہ ہوگا۔
فریق ثانی کا مؤقف اور دلیل و جواب :
حج اسلام کی طرف سے بچے کا حج کفایت نہ کرے گا بلکہ بلوغت کے بعد اس پر حج لازم ہوگا۔
مؤقف اول کا جواب :
اس روایت میں تو اتنی بات مذکور ہے کہ کیا بچے کے لیے حج ہے یعنی وہ حج کرسکتا ہے جیسا کہ اس کے لیے نماز ہے حالانکہ وہ نماز فرض نہیں ہے اس کو سب تسلیم کرتے ہیں اسی طرح یہ درست ہے کہ اس کے لیے حج ہو اور وہ فرض نہ ہو یہ روایت تو ان کے خلاف دلیل ہے جو سرے سے بچے کے حج کے قائل نہیں۔ باقی رہے وہ لوگ جو بچے کے حج کے قائل ہیں مگر اس کو حج فرض قرار نہیں دیتے اس روایت میں ان کے خلاف کوئی دلیل نہیں ہے ابن عباس (رض) جو اس روایت کے راوی ہیں وہ بچے کے حج کو فرض قرار نہیں دیتے بلکہ بلوغت کے بعد دوبارہ حج کا حکم فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ تم نے روایت کا جو معنی لیا وہ درست نہیں۔ روایت ابن عباس (رض) یہ ہے۔