۴۰۷۳ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ بُہْلُوْلٍ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ إِدْرِیْسَ‘ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : حَدَّثَنِیْ سَعِیْدٌ الْمَقْبُرِیُّ‘ عَنْ (أَبِیْ شُرَیْحٍ الْخُزَاعِیِّ قَالَ : لَمَّا بَعَثَ عَمْرُو بْنُ سَعِیْدٍ الْبَعْث إِلٰی مَکَّۃَ لِغَزْوِ ابْنِ الزُّبَیْرِ أَتَاہُ أَبُوْ شُرَیْحٍ فَکَلَّمَہٗ بِمَا سَمِعَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ ثُمَّ خَرَجَ إِلَی نَادِیْ قَوْمِہٖ فَجَلَسَ‘ فَقُمْتُ إِلَیْہِ فَجَلَسْتُ مَعَہٗ۔ قَالَ : فَحَدَّثَ عَمَّا حَدَّثَ عَمْرٌو عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ وَعَمَّا جَاوَبَہٗ بِہٖ عَمْرٌو .قَالَ : قُلْتُ إِنَّا کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِیْنَ افْتَتَحَ مَکَّۃَ‘ فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ مِنْ یَوْمِ الْفَتْحِ‘ خَطَبَنَا فَقَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ‘ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ مَکَّۃَ‘ یَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ فَہِیَ حَرَامٌ مِنْ حَرَامِ اللّٰہِ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ‘ لَا یَحِلُّ لِرَجُلٍ یُؤْمِنُ بِاَللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ أَنْ یَسْفِکَ فِیْہَا دَمًا‘ وَلَا یَعْضِدَ بِہَا شَجَرًا‘ لَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ کَانَ قَبْلِیْ، وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِیْ، وَلَمْ تَحِلَّ لِی إِلَّا ھٰذِہِ السَّاعَۃَ‘ غَضَبًا عَلٰی أَہْلِہَا‘ أَلَا ثُمَّ قَدْ عَادَتْ کَحُرْمَتِہَا بِالْأَمْسِ‘ فَمَنْ قَالَ لَکُمْ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ أَحَلَّہَا فَقُوْلُوْا لَہٗ : إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَحَلَّہَا لِرَسُوْلِہٖ، وَلَمْ یُحِلَّہَا لَک .فَقَالَ لِیْ : انْصَرِفْ أَیُّہَا الشَّیْخُ‘ فَنَحْنُ أَعْرَفُ بِحُرْمَتِہَا مِنْک‘ إِنَّہَا لَا تَمْنَعُ سَافِکَ دَمٍ وَلَا مَانِعَ خَرِبَۃٍ‘ وَلَا خَالِعَ طَاعَۃٍ .قُلْتُ : قَدْ کُنْتُ شَاہِدًا‘ کُنْتُ غَائِبًا‘ وَقَدْ أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُبَلِّغَ شَاہِدُنَا غَائِبَنَا‘ وَقَدْ أَبْلَغْتُک) .
٤٠٧٣: سعید مقبری نے ابو شریح خزاعی (رض) سے روایت کی ہے جب عمرو بن سعید نے ایک دستہ عبداللہ بن زبیر (رض) سے لڑائی کے لیے بھیجا تو ابو شریح (رض) خود عمرو بن سعید کے پاس گئے اور جو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا تھا وہ اس کو سنایا پھر اپنی قوم کی مجلس میں آ بیٹھے تو میں ان کے پاس اٹھ کر گیا اور ان کے پاس بیٹھ گیا چنانچہ انھوں نے مجھے وہی روایت سنائی جو عمرو بن سعید کو سنائی اور وہ بھی بتلایا جو عمرو نے جواب دیا اور کہنے لگے ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس وقت ساتھ تھے جب مکہ فتح ہوا جب فتح مکہ سے اگلا دن آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا اے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرمت والا بنایا جب سے آسمان و زمین کو پیدا کیا وہ اللہ تعالیٰ کے محترم مقامات سے ہے جو قیامت تک محترم رہیں گے۔ کسی شخص کو جائز نہیں جو اللہ تعالیٰ اور آخرت پر یقین رکھتا ہو۔ کہ وہ اس میں کوئی خون بہائے اور نہ یہ جائز ہے کہ کوئی درخت کاٹے۔ اور مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں فرمایا اور میرے بعد بھی کسی کے لیے حلال نہیں اور میرے لیے بھی صرف ایک گھڑی کے لیے حلال فرمایا اور اس کا سبب اہل مکہ مشرکین پر غضب کا اظہار تھا۔ خبردار سنو ! پھر اس کی حرمت پہلے کی طرح واپس لوٹ آئی ہے جو شخص تمہیں کہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو حلال کیا تو اس کو یہ جواب دو بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اس کو حلال کیا ہے اس کو تیرے لیے حلال نہیں کیا۔ سعید کہتے ہیں ابو شریح کہنے لگے میری بات سن کر عمرو بن سعید کہنے لگا اے بوڑھے ! تم لوٹ جاؤ ہم تیری نسبت اس کی حرمت سے زیادہ واقف ہیں یہ خون بہانے والے سے نہیں روکتا اور نہ خون خرابہ کرنے والے سے روکتا ہے اور نہ امیر کی اطاعت سے نکلنے والے سے روکتا ہے میں نے کہا میں موجود تھا تو غائب تھا ہمیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غائب کو پہنچانے کا حکم فرمایا تھا اور وہ میں نے پہنچا دیا۔
تخریج : بخاری فی اعلم باب ٣٧‘ والعید باب ٨؍١٠‘ والمغازی باب ٥١‘ مسلم فی الحج ٤٤٦‘ ترمذی فی الحج باب ١‘ نسائی فی المناسک باب ١١١‘ مسند احمد ٤‘ ٣١؍٣٢۔
لغات : سافک۔ خون بہانے والا۔ خربہ۔ خرابی والا۔ خالع۔ بیعت توڑنا۔