۴۰۸۱ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ‘ أَقْبَلَ مِنْ مَکَّۃَ‘ حَتّٰی اِذَا کَانَ بِقُدَیْدٍ بَلَغَہُ خَبَرٌ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ‘ فَرَجَعَ‘ فَدَخَلَ مَکَّۃَ حَلَالًا‘ فَقَلَّدُوْا ذٰلِکَ وَاتَّبَعُوْہُ‘ وَکَانَ النَّظَرُ فِیْ ذٰلِکَ عِنْدَنَا - خِلَافَ مَا ذَہَبُوْا إِلَیْہِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ غَیْرِ ابْنِ عُمَرَ فِیْ ذٰلِکَ‘ مَا یُخَالِفُ ھٰذَا .
٤٠٨١: نافع نے روایت کی ہے کہ ابن عمر (رض) مکہ سے روانہ ہوئے جب مقام قدید میں پہنچے تو ان کو اطلاع ملی کہ وہاں فوج کشی ہوگئی ہے تو وہ واپس لوٹے اور مکہ میں بلا احرام داخل ہوئے۔ ان ائمہ احناف (رح) نے ان روایات کو اپنایا اور ان کی اتباع کی اور نظر و فکر کا تقاضا ہمارے ہاں اس کے خلاف تھا اور حضرت ابن عمر (رض) کے علاوہ دیگر حضرات سے اس کے خلاف روایات موجود ہیں۔