۴۰۹۲ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ‘ قَالَ ثَنَا حَمَّادٌ‘ عَنْ أَیُّوْبَ‘ عَنْ نَافِعٍ‘ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّہٗ کَانَ اِذَا بَعَثَ بِہَدْیِہِ‘ أَمْسَکَ عَنْ النِّسَائِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ‘ فَقَالُوْا : لَا یَجِبُ عَلٰی أَحَدٍ تَجْرِیْدٌ وَلَا تَرْکُ شَیْئٍ مِمَّا یَتْرُکُہُ الْمُحْرِمُ إِلَّا بِدُخُوْلِہِ فِی الْاِحْرَامِ إِمَّا بِالْحَجِّ‘ وَإِمَّا بِالْعُمْرَۃِ .وَکَانَ مِمَّا احْتَجُّوْا بِہٖ فِیْ ذٰلِکَ‘ مَا قَدْ رَوَیْنَاہٗ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا‘ فِیْمَا أَجَابَتْ بِہِ زِیَادًا .
٤٠٩٢: نافع ابن عمر (رض) کے متعلق نقل کرتے ہیں کہ جب وہ اپنی ہدی بھیجتے تو بیویوں کے قریب نہ جاتے۔
حاصل روایات : ان روایات سے معلوم ہوتا ہے ہے کہ ہدی کو روانہ کرنے والا گھر میں محرم کی طرح پابندیاں کرے گا جب ہدی کے ذبح کا دن آجائے گا تو وہ ان پابندیوں سے نکلے گا۔
فریق ثانی کا مؤقف : فقط ہدی روانہ کرنے یا قلادہ ڈالنے سے کوئی محرم نہیں بنتا نہ اس پر وہ پابندیاں لازم ہوتی ہیں جب تک وہ احرام نہ باندھے اور ہدی کے ساتھ روانہ نہ ہو خواہ حج کا قصد کر کے یا عمرہ کا۔
دلائل یہ روایات ہیں۔
اوپر ٤٠٩١ نمبر روایت میں حضرت عائشہ (رض) کا خط ذکر کیا گیا وہ اس سلسلہ کی پہلی دلیل ہے۔