hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4140

.

الطحاوي

4140
Al Tahawi
۴۱۴۰: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْہَدٍ ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖ وَسَلَّمَ قَالَ لَا یَبِیْعُ الرَّجُلُ عَلٰی بَیْعِ أَخِیْہِ، وَلَا یَخْطُبُ عَلٰی خِطْبَۃِ أَخِیْہِ ۔
٤١٤٠: حضرت نافع (رح) نے عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ کوئی مسلمان دوسرے مسلمان بھائی کے سودے پر نہ تو سودا کرے اور نہ ہی اس کی منگنی کے پیغام پر پیغام دے۔
تخریج : بخاری فی النکاح باب ٤٥‘ والبیوع باب ٥٨‘ واشروط باب ٨‘ مسلم فی البیوع ٨‘ فی النکاح ٣٨؍٤٩‘ ابو داؤد فی النکاح باب ١٧‘ ترمذی فی النکاح باب ٣٨‘ نسائی فی البیوع باب ١٩‘ ابن ماجہ فی النکاح باب ١٠‘ دارمی فی النکاح باب ٧‘ مالک فی النکاح باب ١‘ ٢‘ مسند احمد ٢؍١٢٢‘ ٤٦٢‘ ٤٨٧‘ ٥٥٨‘ ٥؍١١۔
خلاصہ الزام : علماء کی اس سلسلہ میں دو آراء ہیں :
نمبر 1: کسی مسلمان کی منگنی پر منگنی کا پیغام مطلقاً ممنوع ہے جس کی دلیل حضرت ابن عمر ‘ عقبہ بن عامر (رض) کی روایات ہیں اس کو ظاہریہ نے اختیار کیا۔
نمبر 2: ائمہ احناف اور تمام دیگر ائمہ کے ہاں منگنی کے پیغام پر پیغام درست ہے بشرطیکہ ادھر مکمل جھکاؤ نہ ہو۔ ان کی مستدل ٤١٥٥ تا آخر روایات ہیں۔