۴۱۵: لَقَدْ حَدَّثَنِیْ یَحْیَی بْنُ عُثْمَانَ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَزِیْرٍ قَالَ : سَمِعْتُ الشَّافِعِیَّ رَحِمَہُ اللّٰہُ یَقُوْلُ : سَمِعْتُ ابْنَ عُیَیْنَۃَ یَقُوْلُ : کُنَّا اِذَا رَأَیْنَا الرَّجُلَ یَکْتُبُ الْحَدِیْثَ عِنْدَ وَاحِدٍ، مِنْ نَفَرٍ سَمَّاہُمْ، مِنْہُمْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أَبِیْ بَکْرٍ، سَخِرْنَا مِنْہُ، لِأَنَّہُمْ لَمْ یَکُوْنُوْا یَعْرِفُوْنَ الْحَدِیْثَ .وَأَنْتُمْ فَقَدْ تُضَعِّفُوْنَ مَا ہُوَ مِثْلُ ھٰذَا بِأَقَلَّ مِنْ کَلَامِ مِثْلِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ .وَقَالَ آخَرُوْنَ : إِنَّ الَّذِیْ بَیْنَ الزُّہْرِیِّ وَبَیْنَ عُرْوَۃَ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ، أَبُوْ بَکْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ .
٤١٥: مجھے یحییٰ نے ابن وزیر سے بیان کیا کہ میں نے امام شافعی (رح) کو یہ کہتے سنا کہ ابن عیینہ کہا کرتے تھے کہ جب ہم کسی آدمی کو فلں جماعت کی حدیث لکھتا دیکھتے ہیں جن کے ابن عیینہ نے نام گنوائے ان میں عبداللہ بن ابوبکر بھی شامل تھا تو ہم اس سے مذاق کرتے ہیں کیونکہ وہ لوگ حدیث کو نہیں جانتے اور تمہارا حال یہ ہے کہ پہلے قول والے لوگوں کو تم ایسے ہی لوگوں کے قول سے ضعیف قرار دیتے ہو جو مرتبہ میں ابن عیینہ سے کم ہوتے ہیں۔ دوسروں نے کہا کہ اس حدیث میں عروہ اور زہری کے درمیان ابوبکر بن محمد ہے۔
امام طحاوی (رح) کہتے ہیں :
یہ اثر بھی زہری نے عبداللہ بن ابی بکر بن عروہ نے بیان کیا ہے تو اس کا درجہ زہری عن عروہ کی بنسبت اور گرگیا جبکہ ابن عیینہ فرماتے تھے جب ہم کسی کو عبداللہ بن ابی بکر جیسے لوگوں سے روایت لکھتا دیکھتے تو ہم اس سے مذاق کرتے کیونکہ عبداللہ جیسے لوگ حدیث کو نہ جانتے تھے۔
اعتراض :
یہ تم نے ابن عیینہ کی بات سن کر حدیث کو ساقط کردیا جبکہ یہ دوسری سند سے ثابت ہے جو کہ حاضر ہے۔