۴۱۵۹: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا أَخْبَرَہٗ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ یَزِیْدَ ، مَوْلَی الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِیْ سَلْمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ قَالَتْ : لَمَّا حَلَلْتُ أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَذَکَرْتُ لَہٗ أَنَّ مُعَاوِیَۃَ بْنَ أَبِیْ سُفْیَانَ ، وَأَبَا جَہْمٍ خَطَبَانِیْ .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَّا أَبُوْ جَہْمٍ فَلَا یَضَعُ عَصَاہُ مِنْ عَاتِقِہٖ، وَأَمَّا مُعَاوِیَۃُ فَصُعْلُوْکٌ لَا مَالَ لَہٗ، وَلٰـکِنْ انْکِحِی أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ .قَالَتْ : فَکَرِہْتہ ، ثُمَّ قَالَ انْکِحِیْ أُسَامَۃَ فَنَکَحْتُہٗ فَجَعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْرًا ، وَاغْتَبِطْتُ بِہٖ ۔
٤١٥٩: ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف نے فاطمہ بنت قیس (رض) سے نقل کیا جب میری عدت کے ایام ختم ہوئے تو میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مشورہ لیا کہ معاویہ بن ابی سفیان اور ابو جہم دونوں کی طرف سے مجھے پیغام نکاح آیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ابو جہم تو اپنے کندھے سے لاٹھی نہیں اتارتا۔ باقی رہا معاویہ تو وہ تنگدست و فقیر ہے اس کے پاس کچھ بھی مال نہیں لیکن تم اسامہ بن زید سے نکاح کرلو۔ فاطمہ کہتی ہیں میں نے ناپسند کیا تو آپ نے فرمایا اسامہ سے نکاح کرلو۔ پس میں نے اسامہ سے نکاح کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے اسی میں بھلائی ڈال دی اس کی وجہ سے مجھ پر رشک کیا جانے لگا۔
لغات : اغتطبت۔ قابل رشک ہونا۔
تخریج : مسلم فی الرضاع ١٠١‘ ابو داؤد فی الطلاق باب ٣٩‘ موطا مالک فی الطلاق ٦٧‘ مسند احمد ٦؍٤١٢۔