۴۱۶۵: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی ابْنُ جُرَیْجٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوْسٰی، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُرْوَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ یَعْلَی آلِہِ وَسَلَّمَ قَالَ أَیُّمَا امْرَأَۃٍ نُکِحَتْ بِغَیْرِ اِذْنِ وَلِیِّہَا ، فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ ، فَاِنْ أَصَابَہَا فَلَہَا مَہْرُہَا ، بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِہَا ، فَاِنْ اِشْتَجَرُوْا ، فَالسُّلْطَانُ وَلِیُّ مَنْ لَا وَلِیَّ لَہٗ۔
٤١٦٥: عروہ نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے ‘ انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرمایا ہے کہ جو عورت ولی کی اجازت کے بغیر اپنا نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے اگر مرد نے اس سے قربت بھی کرلی تو اس عورت کو مہر ملے گا کیونکہ اس نے اس کی شرمگاہ کو استعمال کیا پھر اگر ان میں باہمی اختلاف ہوجائے تو حکمران اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی (نسباً ) موجود نہ ہو۔
تخریج : ترمذی فی النکاح باب ١٥‘ ابن ماجہ فی النکاح باب ١٥‘ دارمی فی النکاح باب ١١‘ مسند احمد ٦؍٦٤٧‘ ٦٦‘ ١٦٦‘ ابو داؤد فی النکاح باب ٩‘ دارمی فی النکاح باب ١١۔
اس میں علماء کی دو رائے ہیں۔
نمبر 1: ولی عصبہ کے بغیر نکاح منعقد نہ ہوجائے گا اس کو ائمہ ثلاثہ اور حسن بصری و سفیان (رح) نے اختیار کیا ہے۔
نمبر 2: ولی کی اجازت کے بغیر کفو میں نکاح درست ہوگا غیر کفو میں ان کو حق اعتراض ہے اس کو ائمہ احناف اور زہری ‘ شعبی اوزاعی ‘ قاسم (رح) نے اختیار کیا ہے۔ (نخبہ والتعلیق)
فریق اوّل کا مؤقف : عورت کو اجازت نہیں کہ وہ بغیر ولی کی اجازت کے اپنا نکاح کرے اگر اس نے نکاح کرلیا تو اس کا نکاح باطل ہے۔