hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4170

.

الطحاوي

4170
Al Tahawi
۴۱۷۰: حَدَّثَنَا بِذٰلِکَ ابْنُ أَبِیْ عِمْرَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ مَعِیْنٍ ، عَنِ ابْنِ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ بِذٰلِکَ .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : وَہُمْ یُسْقِطُوْنَ الْحَدِیْثَ بِأَقَلَّ مِنْ ہٰذَا ، وَحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ ، فَلَا یُثْبِتُوْنَ لَہٗ سَمَاعًا عَنِ الزُّہْرِیِّ ، وَحَدِیْثُہٗ عَنْہُ عِنْدَہُمْ ، مُرْسَلٌ ، وَہُمْ لَا یَحْتَجُّوْنَ بِالْمُرْسَلِ ، وَابْنُ لَہِیْعَۃَ ، فَہُمْ یُنْکِرُوْنَ عَلَی خَصْمِہِمْ الِاحْتِجَاجَ عَلَیْہِمْ بِحَدِیْثِہٖ، فَکَیْفَ یَحْتَجُّوْنَ بِہٖ عَلَیْہِ فِیْ مِثْلِ ہٰذَا ؟ ثُمَّ لَوْ ثَبَتَ مَا رَوَوْا مِنْ ذٰلِکَ عَنِ الزُّہْرِیِّ ، لَکَانَ قَدْ رُوِیَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ، مَا یُخَالِفُ ذٰلِکَ .
٤١٧٠: امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ محدثین کرام تو اس سے کم درجہ کا عیب نکلنے پر روایت کو ترک کردیتے ہیں جبکہ یہاں حجاج بن ارطاۃ کا زہری سے سماع ہی ثابت نہیں اور حجاج زہری سے جو بھی روایت کریں وہ مرسل شمار ہوتی ہے اور مرسل فریق اوّل کے ہاں قابل حجت نہیں چہ جائیکہ بنیادی دلیل میں اس کو پیش کیا جائے۔ ابن لہیعہ اس روایت کی سند میں پایا جاتا ہے اور فریق اوّل موقعہ حجت میں ابن لہیعہ کی روایت کو قبول نہیں کرتے تو خود ایسی روایت سے استدلال کیونکر کرتے ہیں جس میں ابن لہیعہ موجود ہے۔ اگر بالفرض زہری سے یہ روایت ثابت بھی ہوجائے اور نیچے والی سے قطع نظر کرلی جائے تو حضرت عائشہ (رض) کی روایت اس کے خلاف موجود ہے جو ہم پیش کئے دیتے ہیں۔
تخریج : موطا مالک فی الطلاق ١٥۔
لغات : یفتات علیہ۔ رائے کو مسلط کرنا۔