۴۱۷۳: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ حَنْظَلَۃُ وَأَفْلَحُ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، فِیْ حَفْصَۃَ ، بِمِثْلِ ذٰلِکَ .فَلَمَّا کَانَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَدْ رَأَتْ أَنَّ تَزْوِیْجَہَا بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بِغَیْرِہِ جَائِزٌ ، وَرَأَتْ ذٰلِکَ الْعَقْدَ مُسْتَقِیْمًا حَتّٰی أَجَازَتْ فِیْہِ التَّمْلِیْکَ الَّذِی لَا یَکُوْنُ اِلَّا عَنْ صِحَّۃِ النِّکَاحِ وَثُبُوْتِہٖ، اسْتَحَالَ - عِنْدَنَا - أَنْ یَکُوْنَ تَرَیْ ذٰلِکَ .وَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نِکَاحَ اِلَّا بِوَلِی .فَثَبَتَ بِذٰلِکَ فَسَادُ مَا رُوِیَ عَنِ الزُّہْرِیِّ فِیْ ذٰلِکَ .وَاحْتَجَّ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی أَیْضًا لِقَوْلِہِمْ ،
٤١٧٣: حنظلہ اور افلح نے قاسم بن محمد سے حفصہ بنت عبدالرحمن سے متعلق اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ تین اسناد کے ساتھ پیش کی جانے والی روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ (رض) نے اپنے بھائی عبدالرحمن (رض) کی عدم موجودگی میں ان کی بیٹی کا نکاح کردیا اور اس کو جائز سمجھا اور اس عقد سے تملیک بضعہ کو جائز قرار دیا جو ہمارے ہاں ثبوت نکاح اور اس کے ثبوت کے بغیر نہیں ہوسکتی اور یہ بات قطعاً غیر ممکن ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لانکاح الابولی کو جانتے ہوئے اس کو بغیر ولی کے جائز قرار دیا ہو پس اس بات سے زہری کی روایت کا نقص ثابت ہوگیا۔ اوّل قول والوں نے اپنی دلیل میں اس روایت کو پیش کیا ہے۔
تخریج : بخاری فی النکاح باب ٣٦‘ ابو داؤد فی النکاح باب ١٩‘ ترمذی فی النکاح باب ١٤‘ ١٧‘ ابن ماجہ فی النکاح باب ١٥‘ دارمی فی النکاح باب ١١‘ مسند احمد ١؍٢٥٠‘ ٤؍٣٩٤‘ ٤١٨‘ ٦؍٢٦٠۔
الجواب بالصواب :
امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ روایت فریق اوّل کے ضابطہ کے مطابق استدلال کے لیے کافی نہیں کیونکہ اسرائیل سے زیادہ حفظ و ضبط و اتقان والے روات مثلاً سفیان ‘ شعبہ وغیرہ نے اس کو اسحاق سے انقطاع کے ساتھ نقل کیا ہے تو منقطع روایت سے استدلال درست نہ ہوا۔