۴۱۷۶: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَامِرٍ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ ، عَنْ أَبِیْ اِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِیْ بُرْدَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَہٗ۔فَصَارَ أَصْلُ ہٰذَا الْحَدِیْثِ عَنْ أَبِیْ بُرْدَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، بِرِوَایَۃِ شُعْبَۃَ وَسُفْیَانَ ، وَکُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا - عِنْدَہُمْ - حُجَّۃٌ عَلَی اِسْرَائِیْلَ ، فَکَیْفَ اِذَا اجْتَمَعَا جَمِیْعًا .فَاِنْ قَالُوْا : فَاِنَّ أَبَا عَوَانَۃَ قَدْ رَوَاہُ مَرْفُوْعًا ، کَمَا رَوَاہُ اِسْرَائِیْلُ .وَذَکَرُوْا فِیْ ذٰلِکَ ،
٤١٧٦: سفیان ثوری نے ابو اسحاق سے انھوں نے ابو بردہ (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے تو اصل کے لحاظ سے یہ روایت حضرت ابوبردہ (رض) کے واسطہ سے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے جس کو شعبہ و سفیان نے اپنی سند سے روایت کیا ہے۔ ہر دو راوی اکیلے اکیلے بھی اسرائیل کے خلاف حجت ہیں تو جب دونوں جمع ہوں تو پھر ان کی روایت اسرائیل کے خلاف حجت کیوں نہ ہوگی۔