۴۱۹۲: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ الْکَیْسَانِیُّ ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ حَسَّانٍ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ شِہَابٍ الْحَنَّاطُ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ بْنِ أَبِیْ حَثْمَۃَ ، عَنْ عَمِّہِ سُلَیْمَانَ بْنِ أَبِیْ حَثْمَۃَ ، قَالَ : رَأَیْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَۃَ یُطَارِدُ ثَبِیْتَۃَ بِنْتَ الضَّحَّاکِ فَوْقَ اِجَارٍ لَہَا بِبَصْرَۃَ ، طَرْدًا شَدِیْدًا .فَقُلْتُ :أَتَفْعَلُ ہٰذَا، وَأَنْتَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : اِنْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ اِذَا أُلْقِیَ فِیْ قَلْبِ امْرِئٍ خِطْبَۃُ امْرَأَۃٍ ، فَلَا بَأْسَ أَنْ یَنْظُرَ اِلَیْہَا .
٤١٩٢: حجاج بن ارطاۃ نے محمد بن سلیمان بن ابی حثمہ سے انھوں نے اپنے چچا سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے حضرت محمد بن مسلمہ (رض) کو دیکھا کہ وہ بصرہ میں اپنی ایک کھلی چھت سے ثبیتہ بنت ضحاک کو خوب غور سے دیکھ رہے ہیں میں نے کہا آپ اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے ہوتے ہوئے ایسا کرتے ہیں انھوں نے فرمایا میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا کہ جب کسی شخص کے دل میں کسی عورت کے نکاح کا خیال ڈال دیا جائے تو اسے دیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
تخریج : ابن ماجہ فی النکاح باب ٩‘ مسند احمد ٣؍٤٩٣‘ ٤؍٢٢٥۔
اس میں علماء کے دو قول ہیں :
نمبر 1: نکاح کرنا چاہتا ہو تو عادۃ اعضا ظاہرہ پر ایک نظر ڈالنا درست ہے جمہور علماء ائمہ اربعہ کا یہی قول ہے۔
نمبر 2: مطلقاً ممنوع ہے نہ نکاح کے لیے نہ غیر کے لیے اس کو علماء حدیث کی ایک جماعت نے اختیار کیا ہے۔
(نخبۃ الافکارج ٧)
لغات : اجارہ۔ وہ چھت جس کے اطراف میں منڈیر نہ ہو۔ نطارد طرداً ۔ خوب غور سے دیکھنا۔