۴۲۱۲: حَدَّثَنَا مُحَمَّد بْن خُزَیْمَۃَ ، قَالَ : ثَنَا مُسْلِم بْنُ اِبْرَاھِیْم ، قَالَ : ثَنَا أَبَانُ وَحَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، قَالَا : ثَنَا شُعَیْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَعْتَقَ صَفِیَّۃَ وَجَعَلَ عِتْقَہَا صَدَاقَہَا .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الرَّجُلَ اِذَا أَعْتَقَ أَمَتَہٗ، عَلٰی أَنَّ عِتْقَہَا صَدَاقُہَا ، جَازَ ذٰلِکَ ، فَاِنْ تَزَوَّجَہَا ، فَلَا مَہْرَ لَہَا غَیْرُ الْعَتَاقِ .وَمِمَّنْ قَالَ بِہٰذَا الْقَوْلِ ، سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ ، وَأَبُوْ یُوْسُفَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمَا .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : لَیْسَ لِأَحَدٍ غَیْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنْ یَفْعَلَ ہٰذَا، فَیَتِمُّ لَہُ النِّکَاحُ بِغَیْرِ صَدَاقٍ سِوَی الْعَتَاقِ ، وَاِنَّمَا کَانَ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَاصًّا ، لِأَنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ ، جَعَلَ لَہٗ أَنْ یَتَزَوَّجَ بِغَیْرِ صَدَاقٍ ، وَلَمْ یَجْعَلْ ذٰلِکَ لِأَحَدٍ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرِہٖ، قَالَ عَزَّ وَجَلَّ وَامْرَأَۃً مُؤْمِنَۃً اِنْ وَہَبَتْ نَفْسَہَا لِلنَّبِیِّ اِنْ أَرَادَ النَّبِیُّ أَنْ یَسْتَنْکِحَہَا خَالِصَۃً لَک مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ .فَلَمَّا أَبَاحَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِیِّہِ أَنْ یَتَزَوَّجَ بِغَیْرِ صَدَاقٍ ، کَانَ لَہٗ أَنْ یَتَزَوَّجَ عَلَی الْعَتَاقِ الَّذِی لَیْسَ بِصَدَاقٍ .وَمَنْ لَمْ یُبِحْ اللّٰہُ لَہٗ أَنْ یَتَزَوَّجَ عَلٰی غَیْرِ صَدَاقٍ ، لَمْ یَکُنْ لَہٗ أَنْ یَتَزَوَّجَ عَلَی الْعَتَاقِ الَّذِی لَیْسَ بِصَدَاقٍ .وَمِمَّنْ قَالَ بِہٰذَا الْقَوْلِ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ ، وَزُفَرُ ، وَمُحَمَّدٌ ، رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ .وَمِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، قَدْ رَوٰی عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ فَعَلَ فِیْ جُوَیْرِیَۃَ ذٰلِکَ ، مِثْلَ مَا رَوٰی عَنْہُ أَنَسٌ أَنَّہٗ فَعَلَہُ فِیْ صَفِیَّۃَ .
٤٢١٢: شعیب بن حبحباب نے انس (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفیہ (رض) کو آزاد کردیا اور اس کی آزادی کو اس کا مہر قرار دیا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں اگر کسی نے اپنی لونڈی کو آزاد کیا اور شرط یہ قرار دی کہ اس کی آزادی اس کا مہر ہوگا تو یہ درست ہے پھر اگر وہ اس سے نکاح کرے تو وہ عتق اس کا مہر کافی ہے اس قول کو امام سفیان ثوری (رح) اور امام ابو یوسف (رح) نے اختیار فرمایا۔ ان کے ہاں عتق مہر بن سکتا ہے اس کی دلیل مندرجہ بالا روایت ہے۔ دوسروں نے کہا یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ خاص ہے اور کسی کے لیے درست نہیں کہ آزادی اس کا مہر قرار پا سکے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ” وامراۃ مؤمنۃ ان وہبت نفسہا لل نبی ان ارادالنبی ان یستنکحہا خالصۃ لک من دون المؤمنین الایہ الاحزاب ٥٠“ پس جب اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کے لیے بلا مہر نکاح کو جائز قرار دیا تو آپ کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ آزادی کے بدلے نکاح کریں جو کہ مہر نہیں اور جس شخص یعنی امتی کے لیے اللہ تعالیٰ نے بغیر مہر کے نکاح کو جائز قرار نہیں دیا تو اس کے لیے آزادی کے بدلے بھی نکاح جائز نہیں کیونکہ وہ مہر نہیں ہے اس کو امام ابوحنیفہ ‘ محمد و زفر (رح) نے اختیار کیا ہے۔
تخریج : بخاری فی النکاح باب ١٣‘ ٦٨‘ مسلم فی النکاح ٨٥‘ ابو داؤد فی النکاح باب ٥‘ ترمذی فی النکاح باب ٢٤‘ ابن ماجہ فی النکاح باب ٤٢‘ دارمی فی النکاح باب ٤٥‘ مسند احمد ٣‘ ٩٩؍٢٣٩‘ ١٦٥؍١٧٠‘ ١٨١؍٢٩١‘ ٢٤٢؍٢٨٠۔
امام طحاوی (رح) کا ارشاد : اگر کسی نے اپنی لونڈی کو آزاد کیا اور شرط یہ قرار دی کہ اس کی آزادی اس کا مہر ہوگا تو یہ درست ہے پھر اگر وہ اس سے نکاح کرے تو وہ عتق اس کا مہر کافی ہے اس قول کو امام سفیان ثوری (رح) اور امام ابو یوسف (رح) نے اختیار فرمایا۔
فریق اوّل : اس سے مراد حضرت سفیان اور امام ابو یوسف (رح) ہیں ان کے ہاں عتق مہر بن سکتا ہے اس کی دلیل مندرجہ بالا روایت ہے اس قول کو حسن بصری ‘ زہری ‘ عطاء ‘ نخعی ‘ سعید ابن المسیب (رح) سے اختیار کیا ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ خاص ہے اور کسی کے لیے درست نہیں کہ آزادی اس کا مہر قرار پا سکے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ” وامراۃ مؤمنۃ ان وہبت نفسہا لل نبی ان ارادالنبی ان یستنکحہا خالصۃ لک من دون المؤمنین الایہ الاحزاب ٥٠“ پس جب اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کے لیے بلا مہر نکاح کو جائز قرار دیا تو آپ کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ آزادی کے بدلے نکاح کریں جو کہ مہر نہیں اور جس شخص یعنی امتی کے لیے اللہ تعالیٰ نے بغیر مہر کے نکاح کو جائز قرار نہیں دیا تو اس کے لیے آزادی کے بدلے بھی نکاح جائز نہیں کیونکہ وہ مہر نہیں ہے یہ امام ابوحنیفہ ‘ محمد و زفر (رح) کا مسلک ہے۔
فریق ثانی کے دلائل : یہ روایات ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے جویریہ (رض) کے سلسلہ میں اسی طرح کا فعل نقل کیا ہے جیسا کہ حضرت انس (رض) نے صفیہ (رض) کے متعلق نقل کیا ہے۔ روایت یہ ہے۔