۴۲۳۰: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ ، قَالَ : ثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ، عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ فَنَزَلَ ثَنِیَّۃَ الْوَدَاعِ فَرَأَی مَصَابِیْحَ وَنِسَائً یَبْکِیْنَ فَقَالَ مَا ہٰذَا ؟ فَقِیْلَ : نِسَاء ٌ تَمَتَّعَ بِہِنَّ أَزْوَاجُہُنَّ وَفَارَقُوْھُنَّ .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ أَوْ ہَدَرَ الْمُتْعَۃَ بِالطَّلَاقِ وَالنِّکَاحِ وَالْعِدَّۃِ وَالْمِیْرَاثِ فَفِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ ، تَحْرِیْمُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمُتْعَۃَ بَعْدَ اِذْنِہِ فِیْہَا وَاِبَاحَتِہٖ اِیَّاہَا .فَثَبَتَ بِمَا ذَکَرْنَا ، نَسْخُ مَا فِی الْآثَارِ الْأُوَلِ الَّتِیْ ذٰکَرْنَاہَا فِیْ أَوَّلِ ہٰذَا الْبَابِ .ثُمَّ قَدْ رُوِیَ عَنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَضِیَ عَنْہُمْ النَّہْیُ عَنْہَا أَیْضًا .
٤٢٣٠: سعید بن ابی سعید مقبری نے ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا کہ ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ تبوک کے لیے روانہ ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ثتیتہ الوداع میں قیام فرمایا آپ نے وہاں کچھ چراغ دیکھے اور کچھ عورتوں کو دیکھا جو رو رہی تھیں آپ نے دریافت فرمایا یہ کیا۔ تو بتلایا گیا کہ ان عورتوں سے ان کے خاوندوں نے متعہ کیا اور پھر ان کو چھوڑ دیا جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے متعہ کو طلاق ‘ نکاح ‘ عدت اور وراثت کے ساتھ حرام یا باطل قرار دیا ہے۔ پس ان روایات و آثار سے ثابت ہو رہا ہے کہ متعہ کی اجازت دینے اور اسے جائز قرار دینے کے بعد اس کو حرام قرار دیا گیا تو باب کے شروع میں مذکورہ روایات کا نسخ ثابت ہوگیا پھر صحابہ کرام (رض) سے بھی اس سلسلہ میں ممانعت کی روایات موجود ہیں جو اس نسخ کی توثیق کرتی ہیں۔