۴۲۵۲: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ ، قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جُرَیْجٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ حَبِیْبُ بْنُ أَبِیْ ثَابِتٍ أَنَّ عَبْدَ الْحَمِیْدِ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ عَمْرٍو ، وَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ أَخْبَرَاہُ، أَنَّہُمَا سَمِعَا أَبَا بَکْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ یُخْبِرُ عَنْ أُمِّ سَلْمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَضِیَ اللّٰہ عَنْہَا أَنَّہَا أَخْبَرَتْہُ، فَذَکَرَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ۔قَالُوْا : فَلَمَّا قَالَ لَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنْ سَبَّعْتُ لَکَ، سَبَّعْتُ لِنِسَائِی أَیْ : أَعْدِلُ بَیْنَکَ وَبَیْنَہُنَّ ، فَأَجْعَلُ لِکُلِّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُنَّ سَبْعًا ، کَمَا أَقَمْت عِنْدَک سَبْعًا .کَانَ کَذٰلِکَ أَیْضًا اِذَا جَعَلَ لَہَا ثَلَاثًا ، جَعَلَ لِکُلِّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُنَّ کَذٰلِکَ أَیْضًا .وَقَالَ أَصْحَابُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی : فَمَا مَعْنَیْ قَوْلِہٖ ثُمَّ أَدُوْرُ ؟ .قِیْلَ لَہُمْ : یَحْتَمِلُ ، ثُمَّ أَدُوْرُ بِالثَّلَاثِ عَلَیْہِنَّ جَمِیْعًا ، لِأَنَّہٗ لَوْ کَانَتْ الثَّلَاثُ حَقًّا لَہَا ، دُوْنَ سَائِرِ النِّسَائِ ، لَکَانَ اِذَا أَقَامَ عِنْدَہَا سَبْعًا ، کَانَتْ ثَلَاثٌ مِنْہُنَّ ، غَیْرَ مَحْسُوْبَۃٍ عَلَیْہَا ، وَلَوَجَبَ أَنْ یَکُوْنَ لِسَائِرِ النِّسَائِ أَرْبَعٌ أَرْبَعٌ فَلَمَّا کَانَ الَّذِی لِلنِّسَائِ اِذَا أَقَامَ عِنْدَہَا سَبْعًا سَبْعًا ، لِکُلِّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُنَّ ، کَانَ کَذٰلِکَ ، اِذَا أَقَامَ عِنْدَہَا ثَلَاثًا ، لِکُلِّ ، وَاحِدَۃٍ مِنْہُنَّ ثَلَاثٌ ثَلَاثٌ .ہَذَا ہُوَ النَّظْرُ الصَّحِیْحُ ، مَعَ اسْتِقَامَۃِ تَأْوِیْلِ ہٰذِہِ الْآثَارِ عَلَیْہِ، وَہُوَ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ ، رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ .
٤٢٥٢: ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث نے امّ سلمہ امّ المؤمنین (رض) سے روایت کی ہے انھوں نے خود اسے بتلایا پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ جب ان کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر تمہارے ہاں سات دن گزاروں گا تو سات دن دوسری بیویوں کے لیے ہوں گے اور جب تین مقرر ہوں تو پھر دوسری بیویوں کے لیے بھی تین ہوں گے اور ان میں سے ہر ایک کے لیے اتنے دن ہوں گے۔ پہلے قول والوں نے کہا اگر آپ کا مطلب لیا جائے تو ثم ادور علی النساء کا کیا مطلب ہوگا۔
اس میں اس بات کا احتمال ہے کہ اگر اس کا مطلب یہ ہو کہ پھر میں تین تین دن کے ساتھ سب پر چکر لگاؤں گا کیونکہ اگر تین دن صرف امّ سلمہ (رض) کا حق ہوتا باقی ازواج کا حق نہ ہوتا تو باقی ازواج کے ہاں سات دن ٹھہرنے کی صورت میں ان کے تین دن امّ سلمہ (رض) کی باری سے شمار نہ ہوتے اور اس سے یہ لازم آتا کہ ہر ایک کے لیے چار چار دن ہوں تو جب حضرت امّ سلمہ (رض) کے پاس سات یوم ٹہرنے کی صورت میں ہر ایک کے لیے سات سات ہوئے تو اسی طرح ان امّ سلمہ (رض) کے پاس تین دن ٹھہرنے سے ان میں سے ہر ایک کے لیے تین تین دن مقرر ہوئے۔
حاصل روایات : ان روایات کے معانی کو قائم رکھتے ہوئے صحیح قیاس یہی ہے اور امام ابوحنیفہ اور ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول بھی یہی ہے۔