hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4283

.

الطحاوي

4283
Al Tahawi
۴۲۸۳: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ مَنْصُوْرٍ ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَأْمُرُ اِحْدَانَا أَنْ تَتَّزِرَ وَہِیَ حَائِضٌ ، ثُمَّ یُضَاجِعَہَا .قَالَ شُعْبَۃُ : وَقَالَ مَرَّۃً : یُبَاشِرُہَا .
٤٢٨٣: اسود نے عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم میں سے ہر ایک کو ازار باندھنے کا حکم فرماتے جبکہ وہ حالت حیض میں ہوتیں پھر ان کے ساتھ لیٹ جاتے شعبہ کہتے ہیں کہ کبھی مباشرت کا لفظ ذکر کیا ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الطہارۃ باب ١٠٦‘ مسند احمد ٦؍١٧٤۔

نمبر 1: مباشرت فاحشہ تو بالاجماع حرام ہے۔
نمبر 2: مباشرت مافوق السرہ اور ماتحت الرکبہ معانقہ لمس ‘ قبلہ کی صورت میں بالاجماع حلال ہے۔
نمبر 3: مباشرت مابین السرہ و الرکبہ کپڑے کے نیچے سے قبل دبر کے علاوہ بھی حرام ہے یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ مالک ‘ قتادہ (رح) کا قول ہے یہ فریق اوّل ہے۔ دوسرے فریق کے ہاں شرمگاہ سے بچ کر ماتحت الازار درست ہے۔ اس کو امام محمد ‘ شافعی ‘ احمد شعبی و نخعی (رح) نے اختیار کیا ہے فریق اوّل کی دلیل یہ روایات ہیں۔
لغات : یضاجع۔ ساتھ لیٹنا۔ مباشر۔ مباشرت کرنا۔ جسم سے جسم ملانا۔