۴۲۸۹: فَاِنَّہٗ حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا عَلِیٌّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ أَبِیْ اِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو الشَّامِیِّ ، عَنْ أَحَدِ النَّفَرِ الَّذِیْنَ أَتَوْا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَکَانُوْا ثَلَاثَۃً ، فَسَأَلُوْھُ : مَا لِلرَّجُلِ مِنْ امْرَأَتِہِ اِذَا أَحْدَثَتْ ؟ یَعْنُوْنَ الْحَیْضَ .فَقَالَ : سَأَلْتُمُوْنِیْ عَنْ شَیْئٍ ، مَا سَأَلَنِیْ عَنْہُ أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ عَنْہُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : لَہٗ مِنْہَا مَا فَوْقَ الْاِزَارِ ، مِنَ التَّقْبِیْلِ وَالضَّمِّ ، وَلَا یَطَّلِعُ عَلٰی مَا تَحْتَہُ .
٤٢٨٩: عاصم بن عمرو شامی نے اس وفد کے ارکان میں سے ایک سے دریافت کیا جو عمر (رض) کی خدمت میں آئے تھے ان کی تعداد تین تھی انھوں نے آپ سے مسئلہ دریافت کیا ؟ جب عورت حیض کی حالت میں ہو تو مرد کو اس سے کس طرح فائدہ اٹھانا ممکن ہے احدثت سے ان کی مراد حیض تھی آپ نے فرمایا تم نے آج مجھ سے وہ مسئلہ دریافت کیا جو آج تک مجھ سے کسی نے دریافت نہیں کیا جب سے میں نے مسئلہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا آپ نے فرمایا ازار کے اوپر سے وہ فائدہ اٹھاسکتا ہے یعنی بوسہ اور اپنے جسم کے ساتھ ملانا وغیرہ مگر اس کے مقام ستر کو جھانک نہیں سکتا۔