۴۳۱ : مَا حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَامِرٍ قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ ذِئْبٍ، عَنْ عُقْبَۃَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِذٰلِکَ .فَہٰؤُلَائِ الْحُفَّاظُ، یُوْقِفُوْنَ ھٰذَا الْحَدِیْثَ عَلٰی مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، وَیُخَالِفُوْنَ فِیْہِ ابْنَ نَافِعٍ، وَہُوَ عِنْدَکُمْ حُجَّۃٌ عَلَیْہِ وَلَیْسَ ہُوَ بِحُجَّۃٍ عَلَیْہِمْ .فَکَیْفَ تَحْتَجُّوْنَ بِحَدِیْثٍ مُنْقَطِعٍ فِیْ ھٰذَا، وَأَنْتُمْ لَا تُثْبِتُوْنَ الْمُنْقَطِعَ؟ وَإِنِ احْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
٤٣١: ابو عامر نے کہا ہمیں ابن ابی ذئب نے عقبہ سے اور انھوں نے محمد بن عبدالرحمن عن النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ یہ حفاظِ حدیث اس روایت کو محمد بن عبدالرحمن پر موقوف قرار دیتے ہیں اور اس میں ابن نافع کی مخالفت کرتے ہیں اور وہ تو تمہارے ہاں بھی ابن عبدالرحمن کے خلاف حجت ہے۔ ابن عبدالرحمن ان کے خلاف حجت نہیں پھر تم ایک منقطع روایت کیسے دلیل بناتے ہو حالانکہ تم منقطع روایت کو ثابت نہیں مانتے۔ اگر وہ اس روایت کو دلیل میں لائیں۔
الجواب :
اب بنظر انصاف فرمائیں کہ یہ روایت حفاظ حدیث کے ہاں موقوف ہے اور ان سب کی روایت عبداللہ بن نافع الصائغ کے خلاف ہے پس اس میں رفع درست نہ ہوا اور موقوف سرے سے آپ کے ہاں قابل حجت نہیں تو ہمارے خلاف حجت کیسے بنا سکتے ہیں۔
اشکال :
اگر یہ روایت موقوف تھی تو متصل روایت حضرت ام حبیبہ (رض) سے دو اسناد کے ساتھ پیش کی جاتی ہے تاکہ آپ کو تسلی ہو۔
روایات یہ ہیں :