hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4334

.

الطحاوي

4334
Al Tahawi
۴۳۳۴: بِمَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ مَرْیَمَ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَزِیْدَ بْنِ الْمُہَاجِرِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ الْقُرَظِیِّ أَنَّہٗ کَانَ لَا یَرَیْ بَأْسًا بِاِتْیَانِ النِّسَائِ فِیْ أَدْبَارِہِنَّ وَیَحْتَجُّ فِیْ ذٰلِکَ بِقَوْلِہٖ عَزَّ وَجَلَّ أَتَأْتُوْنَ الذُّکْرَانَ مِنَ الْعَالَمِیْنَ وَتَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَکُمْ رَبُّکُمْ مِنْ أَزْوَاجِکُمْ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ عَادُوْنَ أَیْ مِنْ أَزْوَاجِکُمْ مِثْلَ ذٰلِکَ ، اِنْ کُنْتُمْ تَشْتَہُوْنَ .قِیْلَ لَہُمْ : وَمَنْ یُوَافِقُ مُحَمَّدَ بْنَ کَعْبٍ عَلٰی ہَذَا التَّأْوِیْلِ ؟ قَدْ قَالَ مُخَالِفُوْھُ وَتَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَکُمْ رَبُّکُمْ مِنْ أَزْوَاجِکُمْ مِمَّا قَدْ أَحَلَّ لَکُمْ مِنْ جِمَاعِہِنَّ فِیْ فُرُوْجِہِنَّ .وَہٰذَا التَّأْوِیْلُ - عِنْدَنَا - أَوْلَی مِنَ التَّأْوِیْلِ الْأَوَّلِ ، لِمُوَافَقَتِہِ لِمَا جَائَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِمَّا قَدْ ذَکَرْنَا .وَلَئِنْ وَجَبَ أَنْ نُقَلِّدَ فِیْ ہٰذَا الْقَوْلِ مُحَمَّدَ بْنَ کَعْبٍ ، فَاِنَّ تَقْلِیْدَ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ أَوْلَی .
٤٣٣٤: یزید بن مہاجر نے محمد بن کعب قرظی کے متعلق نقل کیا کہ وہ عورتوں کے ساتھ دبر میں جماع کرنے میں کوئی حرج خیال نہ کرتا تھا اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد : { اَتَاْتُوْنَ الذُّکْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَ وَتَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَکُمْ رَبُّکُمْ مِّنْ اَزْوَاجِکُمْ ١ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ } (الشعراء : ١٦٥‘ ١٦٦) سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ تاکہ تم اپنی بیویوں سے اسی جیسی چیز چھوڑتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے پیدا کی ہے اگر تم خواہش رکھتے ہو۔ اس آیت سے اس کا جواز ثابت ہو رہا ہے۔ محمد بن کعب قرظی کی یہ تاویل فاسد ہے۔ مردوں کے متعلق جس چیز سے منع کیا تو کیا عورتوں سے متعلق اسی کو ثابت کرنا تھا۔ ہذا شئی عجیب اس آیت کی تاویل یہ ہے کہ تم اس چیز کو چھوڑتے ہو جو تمہارے رب نے تمہارے لیے تمہاری بیویوں میں رکھی ہے وہ ان کے ساتھ (فرج) شرمگاہ میں جماع ہے جو کہ حلال کیا گیا اور نسل آدم کے بڑھنے کا ذریعہ بنایا گیا ہے یہ تاویل ہمارے ہاں مخالفت والی روایات کے موافق ہونے کی وجہ سے درست و اولیٰ ہے اور اگر اس بات کو تقلیداً ماننا ہے تو محمد بن کعب کی تقلید سے پھر سعید بن المسیب رأس التابعین کی تقلید بہتر ہے۔
حاصل روایات : اس آیت سے اس کا جواز ثابت ہو رہا ہے۔
جواب محمد بن کعب قرظی کی یہ تاویل فاسد ہے۔ مردوں کے متعلق جس چیز سے منع کیا تو کیا عورتوں سے متعلق اسی کو ثابت کرنا تھا۔ ہذا شیٔ عجیب اس آیت کی تاویل یہ ہے کہ تم اس چیز کو چھوڑتے ہو جو تمہارے رب نے تمہارے لیے تمہاری بیویوں میں رکھی ہے وہ ان کے ساتھ (فرج) شرمگاہ میں جماع ہے جو کہ حلال کیا گیا اور نسل آدم کے بڑھنے کا ذریعہ بنایا گیا ہے یہ تاویل ہمارے ہاں مخالفت والی روایات کے موافق ہونے کی وجہ سے درست و اولیٰ ہے۔
دوسرا جواب : اگر اس بات کو تقلیداً ماننا ہے تو محمد بن کعب کی تقلید سے پھر سعید بن المسیب رأس التابعین کی تقلید بہتر ہے۔