hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 435

.

الطحاوي

435
Al Tahawi
۴۳۵ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا الْخَطَّابُ بْنُ عُثْمَانَ الْفَوْزِیُّ، قَالَ : ثَنَا بَقِیَّۃُ عَنِ الزُّبَیْدِیِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہٖ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (أَیُّمَا رَجُلٍ مَسَّ فَرْجَہٗ فَلْیَتَوَضَّأْ، وَأَیُّمَا امْرَأَۃٍ مَسَّتْ فَرْجَہَا فَلْتَتَوَضَّأْ) قِیْلَ لَہُمْ : أَنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَیْبٍ، لَمْ یَسْمَعْ مِنْ أَبِیْہِ شَیْئًا، وَإِنَّمَا حَدِیْثُہٗ عَنْہُ، عَنْ صَحِیْفَۃٍ، فَھٰذَا - عَلٰی قَوْلِکُمْ - مُنْقَطِعٌ، وَالْمُنْقَطِعُ فَلَا یَجِبُ بِہٖ عِنْدَکُمْ حُجَّۃٌ .فَقَدْ ثَبَتَ فَسَادُ ھٰذِہِ الْآثَارِ کُلِّہَا، الَّتِیْ یَحْتَجُّ بِہَا مَنْ یَذْہَبُ إِلٰی إِیْجَابِ الْوُضُوْئِ مِنْ مَسِّ الْفَرْجِ .وَقَدْ رُوِیَتْ آثَارٌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُخَالِفُ ذٰلِکَ .فَمِنْہَا ۔
٤٣٥: بقیہ نے الزبیدی سے اور انھوں نے عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ سے روایت نقل کی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” ایما رجل مس فرجہ فلیتوضأ“ وایما امراۃ مست فرجھا فلتتوضأ“ ۔ اسے جواب دیا جائے گا کہ عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے کوئی روایت نہیں سنی بلکہ ان کے صحیفہ سے دیکھ کر روایت کی ہے ‘ تمہارے بقول یہ منقطع ہے اور منقطع سے تمہارے ہاں حجت قائم نہیں ہوسکتی۔ ان روایات کی کمزوری ذکر کردی گئی۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے خلاف روایات مروی ہیں۔
تخریج : مسند احمد ٢؍٢٢٣‘ دارقطنی ١؍١٤٧‘
ان دونوں روایات سے صراحتاًصحت سند کے ساتھ مس فرج پر وضو کا حکم ثابت ہوگیا۔
الجواب :
تمہارا اپنا خیال ہے کہ عمرو بن شعیب نے اپنے والد شعیب سے کچھ نہیں سنا انھوں نے جتنی روایات ان سے بیان کی ہیں وہ تمام تر اپنے والد کے تیار کردہ صحیفہ سے بیان کی ہیں پس تمہارے اپنے قول کے مطابق یہ منقطع ہے اور منقطع قابل حجت نہیں پس ہم پر الزام نہ رہا۔
حاصل روایات : جو بیس روایات مختلف اسناد سے پیش کی گئیں جن میں نو بسرہ (رض) تین عائشہ صدیقہ (رض) دو زید بن خالد (رض) دو ابن عمر (رض) ایک حضرت ابوہریرہ (رض) اور ایک جابر (رض) ایک محمد بن عبدالرحمن تین ام حبیبہ دو عمرو بن شعب (رض) کی طرف اسناد سے ذکر ہوئیں مگر ان کی اسناد میں سقم کی وجہ سے کوئی روایت قابل احتجاج نہ نکلی بلکہ روایات کا منکر و منقطع و موقوف ہونا محقق ہوا واللہ اعلم۔
پس مس ذکر و فرج سے وضو پر استدلال کمزور ثابت ہوا۔
فریق دوم :
کی پیش کردہ روایات ملاحظہ ہوں۔