۴۳۵۱: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ الطَّیَالِسِیُّ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَوَانَۃَ ، عَنْ سِمَاکٍ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔فَأَخْبَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ مَا قَالَہٗ مِنْ جِہَۃِ الظَّنِّ، فَہُوَ فِیْہِ کَسَائِرِ النَّاسِ فِیْ ظُنُوْنِہِمْ ، وَأَنَّ الَّذِیْ یَقُوْلُہٗ، مِمَّا لَا یَکُوْنُ عَلٰی خِلَافِ مَا یَقُوْلُہُ ہُوَ مَا یَقُوْلُہٗ عَنِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ .فَلَمَّا کَانَ نَہْیُہُ عَنِ الْغَیْلَۃِ ، لِمَا کَانَ خَافَ مِنْہَا عَلٰی أَوْلَادِ الْحَوَامِلِ ، ثُمَّ أَبَاحَہَا ، لَمَّا عَلِمَ أَنَّہَا لَا تَضُرُّہُمْ ، دَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ مَا کَانَ نَہٰی عَنْہُ، لَمْ یَکُنْ مِنْ قِبَلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَأَنَّہٗ لَوْ کَانَ مِنْ قِبَلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ لَکَانَ یَقِفُ بِہٖ عَلٰی حَقِیْقَۃِ ذٰلِکَ .وَلٰـکِنَّہٗ مِنْ قِبَلِ ظَنِّہِ الَّذِیْ قَدْ وَقَفَ بَعْدَہُ عَلٰی أَنَّ مَا فِی الْحَقِیْقَۃِ مِمَّا نَہٰی عَمَّا نَہٰی عَنْہُ مِنْ ذٰلِکَ مِنْ أَجْلِہٖ ، بِخِلَافِ مَا وَقَعَ فِیْ قَلْبِہٖ مِنْ ذٰلِکَ .فَثَبَتَ بِمَا ذَکَرْنَاہُ أَنَّ وَطْئَ الرَّجُلِ امْرَأَتَہٗ وَأَمَتَہُ حَامِلًا ، حَلَالٌ لَمْ یَحْرُمْ عَلَیْہِ قَطُّ .وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ ، رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ .
٤٣٥١ ابو عوانہ نے سماک سے روایت نقل کی پھر انھوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت بیان کی۔ اس روایت میں یہ بتلایا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو بات اپنے گمان سے فرمائیں تو اس گمان کا حکم عام لوگوں کے گمان کی طرح ہے اور وہ جو آپ اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کر کے فرمائیں وہ اسی طرح ہے اس کے الٹ ہوجانا ممکن نہیں ہے۔ جبکہ حالت حمل میں جماع سے ممانعت کا خیال ان بچوں کے سلسلہ میں شفقت و خوف کی وجہ سے تھا جو حاملہ عورتوں کے پیٹ میں ہوتا ہے پھر جب آپ کو معلوم ہوا کہ اس سے نقصان نہیں ہوتا تو اس کو مباح کردیا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ یہ ممانعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ تھی اگر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا تو آپ اس کی حقیقت سے واقف ہوتے بلکہ وہ آپ کا گمان تھا جس کے متعلق پتہ چلا کہ یہ درحقیقت ان امور سے نہیں ہے جس کی بناء پر آپ نے منع فرمایا ہے اور وہ جو خیال آیا تھا وہ اس کے خلاف تھا ‘ جو دل میں اترا تھا۔ پس ثابت ہوا کہ آدمی کا اپنی بیوی اور حاملہ لونڈی سے وطی کرنا درست ہے اس کی علت میں کوئی کلام نہیں۔ یہی ہمارے امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف اور محمد (رح) کا مسلک ہے۔
حاصل روایت : اس روایت میں یہ بتلایا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو بات اپنے گمان سے فرمائیں تو اس گمان کا حکم عام لوگوں کے گمان کی طرح ہے اور وہ جو آپ اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کر کے فرمائیں وہ اسی طرح ہے اس کے الٹ ہوجانا ممکن نہیں ہے۔
جب کہ حالت حمل میں جماع سے ممانعت کا خیال ان بچوں کے سلسلہ میں شفقت و خوف کی وجہ سے تھا جو حاملہ عورتوں کے پیٹ میں ہوتا ہے پھر جب آپ کو معلوم ہوا کہ اس سے نقصان نہیں ہوتا تو اس کو مباح کردیا۔
اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ یہ ممانعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ تھی اگر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا تو آپ اس کی حقیقت سے واقف ہوتے بلکہ وہ آپ کا گمان تھا جس کے متعلق پتہ چلا کہ یہ درحقیقت ان امور سے نہیں ہے جس کی بناء پر آپ نے منع فرمایا ہے اور وہ جو خیال آیا تھا وہ اس کے خلاف جو دل میں اترا تھا۔
پس ثابت ہوا کہ آدمی کا اپنی بیوی اور حاملہ لونڈی سے وطی کرنا درست ہے اس کی علت میں کوئی کلام نہیں۔ یہی ہمارے امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف اور محمد (رح) کا مسلک ہے۔