۴۳۸۸: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا أَخْبَرَہٗ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِیَاسِ بْنِ الْبُکَیْرِ ، قَالَ : طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَہُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا ، ثُمَّ بَدَا لَہٗ أَنْ یَنْکِحَہَا ، فَجَائَ یَسْتَفْتِیْ فَذَہَبْتُ مَعَہُ أَسْأَلُ لَہٗ أَبَا ہُرَیْرَۃَ ، وَعَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ عَنْ ذٰلِکَ .فَقَالَا : لَا نَرَی أَنْ تَنْکِحَہَا ، حَتّٰی تَتَزَوَّجَ زَوْجًا غَیْرَک .فَقَالَ : اِنَّمَا کَانَ طَلَاقِیْ اِیَّاہَا وَاحِدَۃً .فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا : اِنَّک أَرْسَلَتْ مِنْ یَدِکَ، مَا کَانَ لَک مِنْ فَضْلٍ .
٤٣٨٨: محمد بن ایاس بن بکیر نے نقل کیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دیں ابھی وہ اس کے ہاں داخل بھی نہ ہوا تھا پھر اس کے دل میں خیال آیا کہ وہ اس سے نکاح کرے تو وہ استفتاء کے لیے آیا میں اس کے ساتھ گیا تاکہ ابوہریرہ (رض) اور ابن عباس (رض) سے اس کے لیے استفسار کروں۔ دونوں نے فرمایا ہم اس شخص کا اس عورت سے نکاح جائزقرار نہیں دیتے جب تک کہ وہ دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے وہ آدمی کہنے لگا میں نے اسے ایک طلاق دی ہے تو ابن عباس (رض) نے فرمایا جو زائد تیرے ہاتھ میں تھا تو نے اس کو اپنے ہاتھ سے چھوڑ دیا۔