۴۳۹۷: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا أَخْبَرَہٗ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ ، عَنْ بُکَیْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِیْ عَیَّاشٍ الْأَنْصَارِیِّ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ أَنَّہٗ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ اِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ، فَسَأَلَہٗ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلَاثًا ، قَبْلَ أَنْ یَمَسَّہَا .قَالَ عَطَاء ٌ : فَقُلْتُ لَہٗ، طَلَاقُ الْبِکْرِ وَاحِدَۃٌ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ اِنَّمَا أَنْتَ قَاصٌّ ، الْوَاحِدَۃُ تُبِیْنُہَا ، وَالثَّلَاثُ تُحَرِّمُہَا حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ .
٤٣٩٧: نعمان بن ابو عیاش انصاری نے عطاء بن یسار (رض) سے نقل کیا کہ ایک شخص عبداللہ بن عمرو (رض) کی خدمت میں آیا اور ان سے دریافت کیا کہ جس نے اپنی بیوی کو تین طلاق چھونے سے پہلے دے دی تو عطاء کہنے لگے میں نے کہا کہ باکرہ کی طلاق ایک ہے ؟ تو عبداللہ نے فرمایا تو تو قصہ گو ہے جو اس کو جدا کر دے گی اور تین اس کو حرام کردیں گی وہ اس کے لیے دیگر خاوند سے نکاح کے بغیر حلال نہ ہوگی۔