۴۴۰۸: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّہِ بْنِ سَعِیْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ مُعَاوِیَۃَ کَتَبَ اِلٰی زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ یَسْأَلُہٗ، فَکَتَبَ اِنَّہَا اِذَا دَخَلَتْ فِی الْحَیْضَۃِ الثَّالِثَۃِ ، فَقَدْ بَانَتْ مِنْہُ قَالَ نَافِعٌ : وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یَقُوْلُہُ .قَالُوْا : فَہٰذِہِ أَقَاوِیْلُ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ ، فِیْ ذٰلِکَ ، تَدُلُّ عَلٰی مَا ذَکَرْنَاہُ .قِیْلَ لَہُمْ : ہٰذَا لَوْ لَمْ یَخْتَلِفْ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ ، فَأَمَّا اِذَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ مَا ذَکَرْتُمْ .وَقَالَ آخَرُوْنَ مِنْہُمْ بِخِلَافِ ذٰلِکَ ، لَمْ یَجِبْ بِمَا ذَکَرْتُمْ لَکُمْ حُجَّۃٌ فَمِمَّا رُوِیَ خِلَافُ مَا احْتَجُّوْا بِہٖ مِنْ ہٰذِہِ الْآثَارِ الْمَذْکُوْرَۃِ عَمَّنْ رُوِیَتْ عَنْہُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الدَّالَّۃِ عَلٰی أَنَّ الْأَقْرَائَ غَیْرُ الْأَطْہَارِ .
٤٤٠٨: نافع سے روایت ہے کہ معاویہ (رض) نے زید بن ثابت (رض) کی طرف یہ سوال لکھا (عدت مطلقہ کب ختم ہوگی) تو انھوں نے جواب میں تحریر فرمایا جب مطلقہ تیسرے حیض میں داخل ہوگئی تو وہ اپنے خاوند سے جدا ہوگئی نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) یہی کہتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے یہ اقوال دلالت کر رہے ہیں کہ عدت طہر سے شمار ہوگی۔ ان کے جواب میں کہا جائے گا فقط طہر کا عدت ہونا تو تبھی ثابت ہوسکتا ہے جبکہ اس میں اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اختلاف نہ ہو اور اس پر سب کا اتفاق ہو۔ حالانکہ دیگر اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسے آثار ثابت ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ اقراء طہر نہیں بلکہ اس کے علاوہ ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔ پس جو تم نے ذکر کیا اس میں اس کے خلاف تو کوئی دلیل نہیں ‘ جس سے انھوں نے استدلال کیا کہ اقراء طہر کے علاوہ کوئی چیز ہو۔
نوٹ : اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے یہ اقوال دلالت کر رہے ہیں کہ عدت طہر سے شمار ہوگی۔
جواب فقط طہر کا عدت ہونا تو تبھی ثابت ہوسکتا ہے جبکہ اس میں اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اختلاف نہ ہو اور اس پر سب کا اتفاق ہو۔ حالانکہ دیگر اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسے آثار ثابت ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ اقراء طہر نہیں بلکہ اس کے علاوہ ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔