۴۴۱۱: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، أَنَّ مَالِکًا أَخْبَرَہٗ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ، کَانَ یَقُوْلُ : اِذَا طَلَّقَ الْعَبْدُ اِمْرَأَتَہٗ ثِنْتَیْنِ ، فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَیْہِ، حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ، حُرَّۃً کَانَتْ أَوْ أَمَۃً ، وَعِدَّۃُ الْحُرَّۃِ ثَلَاثُ حِیَضٍ ، وَعِدَّۃُ الْأَمَۃِ حَیْضَتَانِ .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَہٰذَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، وَہُوَ الَّذِیْ رَوٰی عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَوْلَہٗ لِعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَتِلْکَ الْعِدَّۃُ الَّتِیْ أَمَرَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَطْلُقَ لَہَا النِّسَائُ لَمْ یَدُلَّہٗ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ الْأَقْرَائَ الْأَطْہَارُ ، اِذَا کَانَ قَدْ جَعَلَہَا الْحَیْضَ .
٤٤١١: نافع نے عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل کیا کہ جب کوئی غلام اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دے۔ تو وہ اس پر حرام ہوجاتی ہے اور رہتی ہے یہاں تک کہ وہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے وہ عورت حرہ ہو یا امہ آزادعورت کی عدت تین حیض اور لونڈی کی عدت دو حیض ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں یہ عبداللہ بن عمر (رض) ہیں۔ آپ لوگوں نے عبداللہ بن عمر (رض) کے حوالہ سے عمر (رض) کی روایت نقل کی فتلک العدۃ التی امر اللہ عزوجل ان تطلق لہا النساء “ جس کا مفہوم آپ نے طہر لینا چاہا مگر اس روایت کا راوی عبداللہ بن عمر (رض) خود اقراء کا مفہوم طہر کی بجائے حیض لے رہا ہے پس آپ کو اس روایت سے استدلال کا حق نہیں۔ راوی کا عمل روایت کے خلاف نسخ کی علامت ہے۔
امام طحاوی (رح) کی طرف سے فریق ثانی کو ضمنی جواب :
آپ لوگوں نے عبداللہ بن عمر (رض) کے حوالہ سے عمر (رض) کی روایت نقل کی فتلک العدۃ التی امر اللہ عزوجل ان تطلق لہا النساء “ جس کا مفہوم آپ نے طہر لینا چاہا مگر اس روایت کا راوی عبداللہ بن عمر (رض) خود اقراء کا مفہوم طہر کی بجائے حیض لے رہا ہے پس آپ کو اس روایت سے استدلال کا حق نہیں۔ راوی کا اپنا عمل روایت کے خلاف ہونا نسخ کی علامت ہے۔