۴۴۵۱: وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ ، قَالَا جَمِیْعًا ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ أَبُو الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : طَلُقَتْ خَالَۃٌ لِیْ، فَأَرَادَتْ أَنْ تَخْرُجَ فِیْ عِدَّتِہَا اِلٰی نَخْلٍ لَہَا ، فَقَالَ لَہَا رَجُلٌ : لَیْسَ ذٰلِکَ لَکِ.فَأَتَتِ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اُخْرُجِیْ اِلٰی نَخْلِکِ وَجُدِّیْہِ، فَعَسٰی أَنْ تَصَدَّقِی ، وَتَصْنَعِیْ مَعْرُوْفًا .
٤٤٥١: ابوالزبیر نے جابر (رض) سے روایت کی ہے کہ میری خالہ کو طلاق ہوگئی دوران عدت انھوں نے اپنے کھجوروں کے باغ میں جانے کا ارادہ کیا ان سے ایک شخص نے کہا تمہارے لیے یہ جائز نہیں وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اپنے کھجوروں کے درختوں کی طرف جاسکتی ہو اور انھیں توڑ بھی سکتی ہو۔ قریب ہے کہ تم صدقہ کرو اور اچھا کام کرو۔
تخریج : مسلم فی الرضاع ١٢٢؍٥٧‘ ابو داؤد فی الطلاق باب ٤١‘ دارمی فی الطلاق باب ١٤‘ مسند احمد ٣؍٣٢١۔
لغات : جدیہ۔ کھجور توڑنا۔ صرام۔ قطع کرنا۔