۴۴۵۷: وَحَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ ، وَسُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ ، قَالَا : ثَنَا أَسَدٌ ، قَالُوْا : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ عُمَیْسٍ قَالَتْ : لَمَّا أُصِیْبَ جَعْفَرٌ ، أَمَرَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَسْکُنِیْ ثَلَاثًا ، ثُمَّ اصْنَعِیْ مَا شِئْت .فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ الْاِحْدَادَ لَمْ یَکُنْ عَلَی الْمُعْتَدَّۃِ فِیْ کُلِّ عِدَّتِہَا ، وَاِنَّمَا کَانَ فِیْ وَقْتٍ مِنْہَا خَاص ، ثُمَّ نُسِخَ ذٰلِکَ وَأُمِرَتْ بِأَنْ تَحُدَّ عَلَیْہِ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا .فَمِمَّا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ
٤٤٥٧: عبداللہ بن شداد نے اسماء بنت عمیس (رض) سے روایت کی ہے کہ جعفر (رض) کی شہادت ہوئی تو مجھے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا۔ تم تین دن گھر میں ٹھہرو پھر جو چاہو کرو۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ معتدہ پر سوگ عدت کی پوری مدت میں لازم نہیں بلکہ اس میں سے خاص وقت تک کے لیے ہے پھر یہ حکم منسوخ ہو کر پورے چار ماہ دس دن سوگ کا حکم ہوا اس پر مندرجہ ذیل روایات دلالت کرتی ہیں۔