۴۴۶۹: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا حَسَّانُ بْنُ غَالِبٍ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ أَنَّہٗ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ یُخْبِرُ عَنْ زَیْنَبَ : أَنَّ أُمَّہَا أُمَّ سَلْمَۃَ أَخْبَرَتْہَا أَنَّ بِنْتَ نُعَیْمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْعَدَوِیَّ أَتَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ اِنَّ ابْنَتِیْ تُوُفِّیَ عَنْہَا زَوْجُہَا وَہِیَ مُحِدَّۃٌ ، وَقَدِ اشْتَکَتْ عَیْنَیْہَا ، أَفَتَکْتَحِلُ ؟ فَقَالَ لَا .فَقَالَتْ : یَا نَبِیَّ اللّٰہِ، اِنَّہَا تَشْتَکِیْ عَیْنَیْہَا ، فَوْقَ مَا تَظُنُّ ، أَفَتَکْتَحِلُ ؟ قَالَ لَا یَحِلُّ لِمُسْلِمَۃٍ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثَۃِ أَیَّامٍ اِلَّا عَلَی زَوْجٍ ثُمَّ قَالَ أَوَنَسِیتُنَّ ؟ کُنْتُنَّ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ تُحِدُّ الْمَرْأَۃُ السَّنَۃَ ، وَتُجْعَلُ فِی السَّنَۃِ فِیْ بَیْتٍ وَحْدَہَا اِلَّا أَنَّہَا تُطْعَمُ وَتُسْقَی، حَتّٰی اِذَا کَانَ رَأْسُ السَّنَۃِ أُخْرِجَتْ ، ثُمَّ أُتِیَتْ بِکَلْبٍ أَوْ دَابَّۃٍ ، فَاِذَا مَسَّتْہَا مَاتَتْ ، فَخُفِّفَ ذٰلِکَ عَنْکُنَّ ، وَجُعِلَ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا .فَفِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ ، مَا قَدْ دَلَّ أَنَّ اِحْدَادَ الْمُتَوَفّٰی عَنْہَا زَوْجُہَا ، قَدْ جُعِلَ فِیْ کُلِّ عِدَّتِہَا ، وَقَدْ کَانَ قَبْلَ ذٰلِکَ فِیْ ثَلَاثَۃِ أَیَّامٍ مِنْ عِدَّتِہَا خَاصَّۃً ، عَلٰی مَا فِیْ حَدِیْثِ أَسْمَائَ .ثُمَّ قَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ أَمْرِ الْفُرَیْعَۃِ بِنْتِ مَالِکٍ ، مَا قَدْ
٤٤٦٩: زینب نے امّ سلمہ (رض) سے روایت کی ہے کہ نعیم بن عبداللہ عدوی کی بیٹی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی (یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) میری بیٹی کا خاوند فوت ہوگیا اور وہ سوگ میں ہے اس کی آنکھوں میں تکلیف ہے کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے ؟ فرمایا نہیں۔ وہ عرض کرنے لگی یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس کی آنکھ میں تکلیف ہے اور اس کو تکلیف آپ کے گمان سے بڑھ کر ہے کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے آپ نے فرمایا کسی مسلمان عورت کو مناسب نہیں کہ تین دن سے زائد سوگ کرے سوائے اس کے کہ اس کا خاوند ہو۔ پھر فرمایا کیا تم بھول بیٹھی ہو ؟ زمانہ جاہلیت میں عورت کو خاوند پر ایک سال سوگ کرنا ہوتا تھا اور وہ پورا سال ایک اکیلے گھر میں گزارتی بس اس کو کھانا پینا دیا جاتا۔ جب سال کا اختتام ہوتا اس کو گھر سے نکالا جاتا پھر ایک کتا یا کوئی جانور لایا جاتا جب یہ عورت اس کو چھوتی تو وہ مرجاتا۔ پس اللہ تعالیٰ نے تم سے یہ چیز دور کر کے آسانی کردی اور عدت چار ماہ دس دن مقرر کردی۔ یہ تمام روایات ظاہر کرتی ہیں کہ عورت کی عدت کے تمام ایام ہی سوگ کے ہوں گے۔ شروع میں عدت میں تین دن خاص سوگ کے تھے جیسا کہ اسماء (رض) کی روایت میں گزرا۔ پھر فریعہ بنت مالک (رض) کے سلسلہ میں مروی ہے۔
تخریج : نسائی فی الطلاق باب ٦٧۔
حاصل روایات : یہ تمام روایات ظاہر کرتی ہیں کہ عورت کی عدت کے تمام ایام ہی سوگ کے ہوں گے۔ شروع میں عدت میں تین دن خاص سوگ کے تھے جیسا کہ اسماء (رض) کی روایت میں گزرا۔ پھر فریعہ بنت مالک (رض) کے سلسلہ میں مروی ہے۔