۴۴۷ : حَدَّثَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ، قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَوَانَۃَ، عَنْ اِبْرَاہِیْمَ بْنِ الْمُہَاجِرِ، عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : صَلَّیْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ، أَوْ صَلّٰی بِنَا ابْنُ عُمَرَ، ثُمَّ سَارَ، ثُمَّ أَنَاخَ لَہٗ .فَقُلْتُ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، إِنَّا قَدْ صَلَّیْنَا فَقَالَ : إِنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَدْ عَرَفَ ذٰلِکَ، وَلَکِنِّیْ مَسِسْتُ ذَکَرِیْ قَالَ : فَتَوَضَّأَ وَأَعَادَ الصَّلَاۃَ .قِیْلَ لَہُمْ : أَمَّا مَا رَوَیْتُمُوْہُ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ، فَإِنَّہٗ قَدْ رُوِیَ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِیْہِ، خِلَافُ مَا رَوَاہُ عَنْہُ الْحَکَمُ .
٤٤٧: ابو عوانہ نے ابراہیم بن المہاجر عن مجاہد روایت نقل کی ہے کہ مجاہد کہتے ہیں ہم نے ابن عمر (رض) کے ساتھ نماز ادا کی (یا یہ الفاظ تھے) ہمیں ابن عمر (رض) نے نماز پڑھائی پھر وہ چل دیئے پھر کچھ دیر کے بعد اپنے اونٹ کو بٹھایا میں نے کہا اے ابو عبدالرحمن ! ہم نماز تو ادا کرچکے (اب ٹھہرنے کا کیا مقصد ہے) انھوں نے کہا ابو عبدالرحمن ! اس بات کو سمجھتا ہے لیکن میں نے اپنی شرمگاہ کو ہاتھ لگا لیا تھا مجاہد کہتے ہیں پھر انھوں نے وضو کیا اور نماز کا اعادہ کیا (ہم نے بھی کیا) ان کے جواب میں کہا جائے گا کہ اگر تم نے مصعب بن سعد کی یہ روایت نقل کی ہے تو حکم نے ان سے اس کے خلاف روایت نقل کی ہے۔
الجواب :
روایت حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) آپ نے جس سند سے روایت کی ہے اس میں حکم نے مصعب سے نقل کی ہے اس میں امرنی ان اتوضأ کے الفاظ ہیں مگر اس کے برخلاف اسماعیل بن محمد نے مصعب بن سعد سے جو روایت نقل کی اس میں ہاتھ پر مٹی مل لینے یا ہاتھ دھونے کے الفاظ پائے جاتے ہیں جو اس روایت کے مطلب کو واضح کرتے ہیں کہ اتوضأ سے مراد ہاتھ کا دھونا ہے نہ کہ نماز والا وضو کرنا۔ روایت درج ذیل ہے۔