hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4478

.

الطحاوي

4478
Al Tahawi
۴۴۷۸: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : ثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ اِسْحَاقَ ، أَوْ اِسْحَاقَ بْنِ سَعْدٍ ، ثُمَّ ذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ وَقَالَ : الْفُرَیْعَۃُ ، وَلَا أَدْرِیْ أَذَکَرَ سُؤَالَ عُثْمَانَ اِیَّاہَا وَقَضَائَ ہُ بِہٖ ، أَمْ لَا ؟ قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَمَنَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْفُرَیْعَۃَ مِنْ الِانْتِقَالِ مِنْ مَنْزِلِہَا ، فِیْ عِدَّتِہَا ، وَجَعَلَ ذٰلِکَ مِنْ اِحْدَادِہَا ، وَقَدْ ذَکَرْنَا فِیْ حَدِیْثِ أَسْمَائَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَہَا تَسْکُنِیْ ثَلَاثًا ، ثُمَّ اصْنَعِیْ مَا شِئْت حِیْنَ تُوُفِّیَ عَنْہَا زَوْجُہَا ، وَہُوَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .فَفِیْ ذٰلِکَ أَنَّہٗ لَیْسَ عَلَیْہَا أَنْ تُحِدَّ أَکْثَرَ مِنْ ثَلَاثَۃٍ ، وَکُلٌّ قَدْ أَجْمَعَ أَنَّ ذٰلِکَ مَنْسُوْخٌ ، لِتَرْکِہِمْ ذٰلِکَ ، وَاسْتِعْمَالِہِمْ حَدِیْثَ زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، وَعَائِشَۃَ ، وَأُمِّ سَلْمَۃَ ، وَأُمِّ حَبِیْبَۃَ .وَمَا ذَکَرْنَا مَعَ ذٰلِکَ مِمَّا یُوْجِبُ الْاِحْدَادَ فِی الْعِدَّۃِ ، کُلِّہَا وَکُلُّ مَا ذَکَرْنَا فِی الْاِحْدَادِ اِنَّمَا قُصِدَ بِذِکْرِہِ اِلَی الْمُتَوَفّٰی عَنْہَا زَوْجُہَا .فَاحْتَمَلَ أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ فِی الْعِدَّۃِ ، الَّتِیْ تَجِبُ بِعَقْدِ النِّکَاحِ ، فَتَکُوْنُ کَذٰلِکَ الْمُطَلَّقَۃُ عَلَیْہَا فِیْ ذٰلِکَ مِنَ الْاِحْدَادِ فِیْ عِدَّتِہَا ، مِثْلُ مَا عَلَی الْمُتَوَفّٰی عَنْہَا زَوْجُہَا .وَاحْتَمَلَ أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ خُصَّتْ بِہٖ الْعِدَّۃُ مِنَ الْوَفَاۃِ خَاصَّۃً فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ ، اِذْ کَانُوْا قَدْ تَنَازَعُوْا فِیْ ذٰلِکَ ، وَاخْتَلَفُوْا .فَقَالَ قَائِلُوْنَ .لَا یَجِبُ عَلَی الْمُطَلَّقَۃِ فِیْ عِدَّتِہَا اِحْدَادٌ .وَقَالَ آخَرُوْنَ : بَلْ الْاِحْدَادُ عَلَیْہَا فِیْ عِدَّتِہَا ، کَمَا ہُوَ عَلَی الْمُتَوَفّٰی عَنْہَا زَوْجُہَا .فَرَأَیْنَا الْمُطَلَّقَۃَ مَنْہِیَّۃً عَنْ الِانْتِقَالِ مِنْ مَنْزِلِہَا فِیْ عِدَّتِہَا ، کَمَا نُہِیَتِ الْمُتَوَفّٰی عَنْہَا زَوْجُہَا ، وَذٰلِکَ حَقٌّ عَلَیْہَا ، لَیْسَ لَہَا تَرْکُہٗ، کَمَا لَیْسَ لَہَا تَرْکُ الْعِدَّۃِ .فَلَمَّا سَاوَتِ الْمُتَوَفّٰی عَنْہَا زَوْجُہَا فِیْ وُجُوْبِ بَعْضِ الْاِحْدَادِ عَلَیْہَا ، سَاوَتْہَا فِیْ وُجُوْبِ کِلْتَیْہِ عَلَیْہَا .فَثَبَتَ بِمَا ذَکَرْنَا وُجُوْبُ الْاِحْدَادِ عَلَی الْمُطَلَّقَۃِ فِیْ عِدَّتِہَا ، وَقَدْ قَالَ بِذٰلِکَ جَمَاعَۃٌ مِنَ الْمُتَقَدِّمِیْنَ .
٤٤٧٨: زہیر بن معاویہ نے سعد بن اسحاق یا اسحاق بن سعد سے روایت نقل کی پھر انھوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے اور نام الفریعہ ہی لائے اور مجھے معلوم نہیں کہ عثمان (رض) کے ان سے سوال کرنے اور پھر اس کے مطابق فیصلہ کرنے کا تذکرہ کیا ہے یا نہیں۔ یہ روایت فریعہ جو متعدد اسناد سے مروی ہے امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فریعہ (رض) کو مکان سے منتقل ہونے سے روک دیا جبکہ وہ عدت میں تھیں اور اسی مکان میں رہائش کو سوگ کا حصہ قرار دیا ہم نے پہلے اسماء (رض) کی روایت میں ذکر کیا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو فرمایا تم تین روز وہاں قیام کرو پھر جہاں چاہو جاسکتی ہو جب کہ ان کے خاوند جعفر بن ابی طالب (رض) کا انتقال ہوا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ ان پر سوگ صرف تین روزہ ہے اور تمام ائمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ منسوخ ہے کیونکہ تمام نے اس روایت کو چھوڑ دیا اور زینب بنت جحش (رض) والی روایت کو اختیار کیا اسی طرح وہ روایت جس کو عائشہ صدیقہ ‘ امّ سلمہ و ام حبیبہ (رض) نے بیان کیا اس کو اختیار کیا۔ عدت کے سوگ کے سلسلہ میں جس قدر روایات ہم نے ذکر کی ہیں یہ اس عورت کی ہیں جس کا خاوند فوت ہوجائے اگرچہ اس میں دو احتمال اور ہیں۔ ممکن ہے کہ یہی حکم اس عدت کا بھی ہو جو عقد نکاح سے لازم آتی ہے اسی طرح مطلقہ کی عدت کا سوگ ہے جیسا کہ اس عورت کا جس کا خاوند وفات پا جائے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ عدت وفات سے خاص ہو چنانچہ فیصلہ تک پہنچنے کے لیے غور و فکر ضروری ہے کیونکہ اس میں شدید اختلاف ہے۔ مطلقہ پر ایام عدت میں سوگ نہیں۔ اس پر بھی عدت میں اسی طرح سوگ لازم ہے جس طرح اس پر لازم ہے جس کا خاوند فوت ہوجائے۔ چنانچہ ہم نے غور کیا کہ مطلقہ کو ایام عدت میں اپنے مکان سے دوسری جگہ منتقل ہونا ممنوع ہے جیسا کہ اس عورت کو مکان سے منتقل ہونا ممنوع ہے جس کا خاوند فوت ہوجائے اور یہ اس کے خاوند کا حق ہے جو اس پر لازم ہے اس کو اس کا ترک اسی طرح جائز نہیں جیسا کہ عدت کا ترک کرنا جائز نہیں۔ پس جب متوفیٰ عنہا زوجہا کے ساتھ وہ بعض غم اور سوگ میں برابر ہے تو تمام سوگ میں بھی اس کے برابر ہوگی اس سے ثابت ہوا کہ مطلقہ کو بھی عدت میں سوگ کی کیفیت لازم ہے۔ متقدمین علماء کی ایک جماعت نے اسی کو اختیار کیا ہے۔
یہ روایت فریعہ جو متعدد اسناد سے مروی ہے امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فریعہ (رض) کو مکان سے منتقل ہونے سے روک دیا جبکہ وہ عدت میں تھیں اور اسی مکان میں رہائش کو سوگ کا حصہ قرار دیا ہم نے پہلے اسماء (رض) کی روایت میں ذکر کیا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو فرمایا تم تین روز وہاں قیام کرو پھر جہاں چاہو جاسکتی ہو جب کہ ان کے خاوند جعفر بن ابی طالب (رض) کا انتقال ہوا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ ان پر سوگ صرف تین روزہ ہے اور تمام ائمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ منسوخ ہے کیونکہ تمام نے اس روایت کو چھوڑ دیا اور زینب بنت جحش (رض) والی روایت کو اختیار کیا اسی طرح وہ روایت جس کو عائشہ صدیقہ ‘ امّ سلمہ ‘ ام حبیبہ (رض) نے بیان کیا اس کو اختیار کیا۔
عدت کے سوگ کے سلسلہ میں جس قدر روایات ہم نے ذکر کی ہیں یہ اس عورت کی ہیں جس کا خاوند فوت ہوجائے اگرچہ اس میں دو احتمال اور ہیں۔
احتمال نمبر 1: ممکن ہے کہ یہی حکم اس عدت کا بھی ہو جو عقد نکاح سے لازم آتی ہے اسی طرح مطلقہ کی عدت کا سوگ ہے جیسا کہ اس عورت کا جس کا خاوند وفات پا جائے۔
احتمال نمبر 2: یہ بھی احتمال ہے کہ عدت وفات سے خاص ہو چنانچہ فیصلہ تک پہنچنے کے لیے غور و فکر ضروری ہے کیونکہ اس میں شدید اختلاف ہے۔
فریق اوّل کا قول : مطلقہ پر ایام عدت میں سوگ نہیں۔
فریق ثانی : اس پر بھی عدت میں اسی طرح سوگ لازم ہے جس طرح اس پر لازم ہے جس کا خاوند فوت ہوجائے۔
چنانچہ ہم نے غور کیا کہ مطلقہ کو ایام عدت میں اپنے مکان سے دوسری جگہ منتقل ہونا ممنوع ہے جیسا کہ اس عورت کو مکان سے منتقل ہونا ممنوع ہے جس کا خاوند فوت ہوجائے اور یہ اس کے خاوند کا حق ہے جو اس پر لازم ہے اس کو اس کا ترک اسی طرح جائز نہیں جیسا کہ عدت کا ترک کرنا جائز نہیں۔ پس جب متوفیٰ عنہا زوجہا کے ساتھ وہ بعض غم اور سوگ میں برابر ہے تو تمام سوگ میں بھی اس کے برابر ہوگی اس سے ثابت ہوا کہ مطلقہ کو بھی عدت میں سوگ کی کیفیت لازم ہے۔ متقدمین کی ایک جماعت نے اسی کو اختیار کیا ہے۔